یوکرین کا مسئلہ؛ چین فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور نقصان بھی

فائل فوٹو


صدر جو بائیڈن اور عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان حالیہ فون کال پوٹن کے یوکرین پر بلا اشتعال حملے پر مرکوز رہی۔

صدر بائیڈن نے بتایا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین کے خلاف روسی جنگ کو روکنے اور بعد میں اس کا جواب دینے کے لیے کیا اقدامات کیے جن میں روس پر عائد پابندیاں شامل تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بائیڈن نے یہ بھی واضح کیا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے شہروں اور وہاں رہنے والوں پر جو بیہمانہ حملے کیے، اس کے بعد اگر چین نے روس کی مدد کی تو اس کے کیا مضمرات اور نتائج نکل سکتے ہیں۔

حال ہی میں چین اور روس کے درمیان قربت مزید بڑھی ہے۔

فروری میں ان کے لیڈروں نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس میں بطور شراکت دار دونوں ملکوں کے تعلقات "لا محدود " قرار دیے گئے۔ چین نے یوکرین پر روسی حملے، معصوم شہریوں کی ہلاکت اور بے گھری اور شہروں کی تباہی کی مذمت بھی نہیں کی۔

بائیڈن انتظامیہ کے حکام نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ چین روس کو فوجی سامان اور اقتصادی امداد دینے پر بھی غور کر رہا ہے جس سے روس پر عائد پابندیوں کا اثر زائل ہو گا، جو دنیا بھر کے ملکوں نے روس پر اس کی جارحیت کے خلاف ردعمل کے طور پر لگائی ہیں۔

اس فون کال کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن مطمئن ہیں کہ انہوں نے صدر شی پر واضح کر دیا کہ اگر چین نے پوٹن کی جنگی کوششوں میں مدد کی تو اس کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان رابطے جاری رہیں گے اور اب یہ صدر شی پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنےکا فیصلہ کرتے ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ اب یہ ہر ملک کی ذمّہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ روس نے یوکرین پر بلا اشتعال اور بلا جواز جو حملہ کیا ہے، اس کے بارے میں اس ملک کا کیا ردِعمل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے روس سے جس طرح کے تعلقات ہیں، ان کے تناظر میں چین اس تشدد، خونریزی، تباہی اور جنگ کو ختم کروا سکتا ہے مگر ہم نے ایسا اب تک نہیں دیکھا۔

ترجمان پرائس نے کہا چین ایک عرصے سے تمام ملکوں کے حق خود مختاری کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ملک کی خود مختاری پر حملہ ہوتا ہے تو یہ دنیا کے سبھی ملکوں کے لیے اس بات کا مظاہرہ کرنے کا موقع ہے کہ جو وہ کہتے ہیں۔۔۔وہ معنی رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر چین دنیا کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ جو وہ کہتا ہے اس پر یقین بھی رکھتا ہے یعنی چین عشروں اور برسوں سے جن اصولوں کا دعویٰ کرتا آ رہا ہے، ان پر وہ بدستور قائم ہے۔ تو اب ان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ یہ ثابت کریں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**