Accessibility links

Breaking News

سفارت کاری کے ذریعے یمن کے تنازع کا حل ممکن ہے


فائل فوٹو


پچھلے کچھ ہفتوں میں یمن میں جنگ نے مزید شدت پکڑ لی ہے۔ حوثیوں کے سرحد پار سعودی عرب پر حملے جاری ہیں، جس سے نہ صرف شہری ہلاک و زخمی ہوئے بلکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔ تازہ ترین حملہ سعودی عرب کے تجارتی ہوئی اڈّے ابہا پر ہوا، جس میں کم از کم ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔

حوثیوں نے اپنی جارحیت میں مزید اضافہ کیا اور انہوں نے متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ ان سے نہ صرف متحدہ عرب امارات کے شہریوں کی زندگی خطرے میں پڑی بلکہ خلیج میں مقیم ہزاروں امریکی شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطر لاحق ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ یمن کے تیل سے مالامال صوبے مارب میں حوثیوں اور سعودی زیر قیات اتحادی فوجوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔

امریکہ علاقے میں اتحادیوں کی مدد کے لیے پر عزم ہے جو حوثیوں کے جارحانہ حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کو یقین ہے کہ اس تنازعے کا پائیدار حل سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اسی طرح یمنی عوام کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اور اس بات کی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے کہ وہ اجتماعی طور پر خود اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں گے۔

واشنگٹن میں ہونے والی ایک حالیہ کانفرنس میں یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ نے واضح کیا کہ یمن میں امن کی کوششوں میں حوثی بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ لڑائی کو بند کریں اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کریں۔ خاص طور سے جن قوانین کا تعلق شہریوں کے تحفظ سے ہے۔

خصوصی امریکی ایلچی نے کہا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ یمن میں جنگ کا دیرپا سفارتی حل تلاش کرنے میں پوری مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہاں تنازع ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ یمن اپنے قدموں پر دو بارہ کھڑا ہو جائے۔

امریکی خصوصی ایلچی ٹِم لینڈرکنگ نے مزید بتایا کہ پچھلے سال کے دوران یمن میں قیام امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ نےسفارتی سطح پر دو اہم اقدامات کیے۔ پہلا کام تھا کہ جنگ بندی کی ضرورت اور اس کے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی اتفاق رائے حاصل کرنا اور دوسرا یہ کہ یمن کے تمام لوگوں کے نظریات اور خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے امن کا عمل شروع کیا جائے اور اس میں یمن کی اکثریتی آبادی کی اس آواز کو نمایاں کیا جائے جو جنگ کے خاتمے کی خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بین الاقوامی برادری کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کریں کہ یمنی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہو جائیں، اور بین الاقوامی برادری تمام فریقوں پر دباو ڈالے کہ وہ ایسا ہی کریں۔

امریکی خصوصی ایلچی لینڈرکنگ نے امید ظاہر کی کہ 2022 کا سال یمن میں امن کے جانب بڑھنے میں اہم ثابت ہو گا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے پر عزم ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG