تپ دق کا عالمی دن

فائل فوٹو


چوبیس مارچ کو تپ دق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1882 میں ڈاکٹر رابرٹ کوچ کی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبرکلاسس کی دریافت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ بیکٹیریا ہے جو اس مرض کا سبب بنتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں دنیا کے ایک انتہائی موذی مرض کے بارے میں آگہی پیدا کی جائے۔

تپ دق یا ٹی بی ہزاروں سال سے انسانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس مرض کا سبب بننے والا بیکٹیریا لوگوں کے ساتھ پرورش پاتا ہے۔

ماضی میں بھی اور اب بھی ٹی بی دنیا کا انتہائی ہلاکت خیز متعدی مرض ہے۔ ہر روز چار ہزار ایک سو سے زیادہ لوگ اس مرض کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن جاتے ہیں جب کہ تقریباً 28 ہزار افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں، ہر چند کہ ٹی بی قابل انسداد اور قابلِ علاج مرض ہے۔ اس مرض کی وجہ سے زیادہ اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوتی ہیں، جہاں لوگ نسبتاً غریب ہیں اور انہیں مناسب تشخیص اور علاج معالجے کی سہولت میسر نہیں۔

اس نئی صدی کے پہلے دو عشروں میں یعنی 2020 تک چھ کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ زندگیاں ٹی بی کے خلاف کوششوں کے سبب بچا لی گئیں۔ بد قسمتی سے کووڈ-19 کی عالمی وبا کی وجہ سے اس پیش رفت کو نقصان پہنچا ہے۔ چونکہ نیا وائرس دنیا کے صحت کے نظام پر بری طرح چھا گیا، اس لیے بہت سے ملکوں میں تپ دق کی تشخیص اور علاج پر مناسب توجہ مرکوز نہیں کی جا سکی۔ اس کے نتیجے میں 2020 میں پہلی بار ٹی بی سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس سال تپ دق کے عالمی دن کا موضوع ہے " ٹی بی کو ختم کرنے میں سرمایہ کاری کریں اور زندگیاں بچائیں"۔

کووڈ-19 عالمی وبا کا زور ٹوٹنے کے تناظر میں یہ بات خاص طور سے اہمیت کی حامل ہو جاتی ہے۔ تپ دق کے خلاف جنگ میں مزید سرمایہ کاری کر کے ہم اس امر کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ مساوی طور اس کے انسداد اور علاج کی سہولت سب کو میسر ہو اور زیادہ سے زیادہ زندگیوں کو بچا کر ہم تپ دق کے متعدی مرض کا خاتمہ کر سکیں۔

امریکہ تپ دق کے خلاف جنگ کے لیے بدستور پر عزم ہے۔ ایڈز، ملیریا اور تپ دق کے لیے قائم گلوبل فنڈ میں امریکی حکومت سب سے زیادہ امداد دیتی ہے۔ سن 2000 اور 2021 کے درمیان امریکہ نے 21 ارب ڈالر دیے۔ ہم اپنی کوششوں کو ان ملکوں پر مرکوز کرتے ہیں جہاں تپ دق زیادہ پھیلا ہوا ہے، ہم ایسے پروگراموں کومدد فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے ہر ایک کو صحت کی سہولتوں تک رسائی میسر آ سکے اور تپ دق کے خلاف مہم کو تیز تر کیا جا سکے۔

ہم اپنے دوستوں اور اتحادیوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ہماری پیروی کرتے ہوئے فیاضی سے امداد دیں اور تپ دق کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں شریک ہوں، اس کام کے لیے اپنی سرمایہ کاری جاری رکھیں تاکہ ہم پوری دنیا کو ٹی بی سے پاک کر سکیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**