Accessibility links

Breaking News

امریکہ پوری دنیا کو ویکسین کی نصف ارب خوراکیں فراہم کر چکا ہے


فائل فوٹو


صدر بائیڈن نے وعدہ کیا تھا کہ امریکہ پوری دنیا کو کووڈ-19 کی ایک اعشاریہ دو ارب ڈوزز فراہم کرے گا۔ 17 مارچ تک امریکہ نے اپنے اس وعدے کی تکمیل میں ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا۔ امریکہ اب تک 110 سے زیادہ ملکوں کو ویکسین کی 50 کروڑ ڈوزز بھجوا چکا ہے۔ امریکی وزیرِ صحت اور عالمی کووڈ-19 ریسپانس کی قائم مقام رابطہ کار میری بیتھ گڈمین نے کہا کہ یہ کام ’کوویکس‘ کی شراکت کاری میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ امریکہ 120 ملکوں کو 20 ارب ڈالر کی کووڈ- سے19 متعلق صحت، انسانی ہمدردی، اقتصادی اور ترقیاتی امداد فراہم کر چکا ہے۔ اس میں صحت کی فوری ضرورتوں کے لیے تیز رفتار مدد اور ویکسین کی رسائی کو وسعت دینے کے سلسلے میں تیکنیکی امداد بھی شامل ہے۔

اس پروگرام کی کامیابی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کے سینکڑوں شراکت کاروں کے تعاون اور اشتراک سے ممکن ہو سکا، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ہم حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، ویکسین تیار کرنے والوں، این جی اوز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ساتھ مل کر ویکسین کی ترسیل، اس کو لگوانے، ٹیسٹنگ کو بڑھانے، اس کے علاج معالجے اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے تحفظ کے لیے انتھک کام کرتے رہے ہیں۔ اس میں کووڈ-19 گلوبل ایکشن پلان کا تعاون بھی شامل رہا۔

یقینی طور پر یہ کثیر جہتی مشن ہے، ویکسین کا حاصل کرنا، محفوظ طور پر اسپتالوں اور کلینکس تک پہنچانا، لوگوں کو ویکسین لگوانے کے لیے راغب کرنا، ان سب کاموں میں امریکہ کے عالمی اور علاقائی شراکت کار تنظیموں بشمول کوویکس اور افریقی حصولِ ویکسین ٹرسٹ نے پورا تعاون کیا۔ اس سلسلے میں دنیا بھر میں مقامی لیڈروں اور علاقائی تنظیموں سے بھی مدد حاصل کی گئی۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مخصوص علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 100 سے زیادہ منفرد منصوبوں کو 10 ہزار ڈالر مالیت تک کی چھوٹی گرانٹس بھی دے چکا ہے۔

قائم مقام رابطہ کار گڈمین نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ ویکسین محفوظ اورمؤثر ہے جسے بلا قیمت فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ ویکسین صرف ایک خیال کو سامنے رکھ کر عطیہ کر رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کی زندگیاں بچائی جائیں۔ یہ عالمی وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ویکسین لگوائی جائے تاکہ دنیا کو اس کی اگلی قسم سے بچایا جا سکے، جیسا کہ ہم نے سابقہ ڈیلٹا اور دوسرے عام ویریئنٹ کے سلسلے میں دیکھا ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ یہ کام اس لیے بھی اہم ہے کہ ابھی عالمی وبا ختم نہیں ہوئی ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں اومیکرون اب بھی پھیلا ہوا ہے اور بہت سی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اس کے علاوہ نئے ویریئنٹ کا امکان بھی موجود ہے۔ امریکہ ہر سطح پر اپنے شراکت داروں اور کمونیٹیز کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، تاکہ زندگیوں کو بچایا جائے اور آئندہ آنے والی عالمی وباؤں سے نمٹنے کی بہتر طور پر تیاری کی جا سکے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG