Accessibility links

Breaking News

امریکہ میں پریزیڈنٹس ڈے


فائل فوٹو


فروری میں تیسرے پیر کو امریکی یوم صدور مناتے ہیں، اس دن کی یاد منانے کا اصل مقصد جارج واشنگٹن کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا جو امریکہ کے پہلے صدر تھے۔

اٹھارہ سو کے آغاز میں ان کے انتقال کے سال بھر بعد 22 فروری کو واشنگٹن کی سالگرہ پورے ملک میں جسے انہوں نے قائم کیا تھا غیر سرکاری طور پر منائی گئی اور بعد میں اس اعزاز میں ایک اور عظیم لیڈر ابراہم لنکن کا نام بھی شامل کردیا گیا جو واشنگٹن کی سالگرہ کے آس پاس ہی یعنی 12 فروری کو تھی۔

جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کو سب ہی مانتے ہیں کہ وہ اپنے منصبوں پر فائز رہنے والے اب تک کے بیشتر صدور میں سب سے اعلی مقام کے حامل تھے۔ اس کی بڑی وجہ وہ تاریخی واقعات تھے جو ان کے اردگرد وقوع پذہر ہو رہے تھے اور دونوں کی دیانت داری میں جن سے دوررس فیصلوں پر پہنچا جا سکے ملک کو مضبوط، خوشحال اور جمہوری راستے پر گامزن کیا۔

جارج واشنگٹن اپنے دور کی نہایت مقبول شخصیت تھے، وہ واحد صدر تھے جو اتفاقِ رائے سے منتخب ہوئے تھے۔ ہر ریاست کے نمائندے نے ان کو ووٹ دیا جب واشنگٹن نے صدارت سنبھالی تو عملاً کوئی ایسی حکومت نہیں تھی اور نہ ہی ایسا لیڈر تھا جو ان کے لیے ماڈل کا کام دے سکتا تھا۔

دنیا میں کہیں اور بھی جمہوریت کا وجود نہیں تھا پھر بھی انہوں نے ایسے قواعد وضوابط کے اصولوں کو فروغ دیا جن کے لیے انہوں نے ایک جنگ لڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر جگہ تمام لوگ مساوی سلوک کے مستحق ہیں۔ وہ آئین کی تیاری کے محرک تھے، یہ وہ دستاویز تھی جو قواعد وضوابط اور ان اصولوں کا احاطہ کرتی ہے جس کے گرد حکومت کی تشکیل ہوتی ہے اور جن کے ذریعے شہریوں کے حقوق اجاگر ہوتے ہیں۔

خود اپنی کارکردگی سے انہوں نے سیاسی اور فوجی شعبوں اور اقتصادی پالیسی میں معیار قائم کیے۔ ٹھیک دو میعاد کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہنے کے بعد سبکدوش ہو کر انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ صدارت کا عہدہ تاحیات عہدے کی شکل اختیار نہ کرے اور صدارت کے اختیارات کو پرامن طور پر منتقل کردیا گیا۔

اسی طرح ابراہم لنکن نے ایک ایسے ملک کی صدارت کی جو تلاطم کا شکار تھا، واشنگٹن کو جب کہ ایک نئی قوم کی تشکیل دینی تھی لنکن کا چیلنج یہ تھا کہ ملک کو خانہ جنگی سے نکالا جائے اسے ٹوٹنے پھوٹنے سے بچایا جائے اور اسے ایک ایسے راستے پر ڈالا جائے جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحدہ راستے پر گامزن ہوسکے۔

ابراہم لنکن نے ایک ایسا دائرہ کار مرتب کیا جس کے تحت ایک کم اختیار والی مرکزی حکومت کو جو ریاستوں کی ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن پر مشتمل ہو اور وہ ریاستوں کی ایک حقیقی یونین کی جگہ لے سکے۔ جس کی قیادت ایک مضبوط وفاقی حکومت کرسکے۔

آج کے دن یوم صدور کے موقع پر ہر اس شخصیت کو تعظیم پیش کی جاتی ہے جو اس عہدے پرفائز رہی تاہم کسی نے بھی وہ نقش نہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ مقام حاصل کرسکے جس کا اعزاز جارج واشنگٹن اورابراہم لنکن کے حصے میں آیا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG