کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن اور شام

فائل فوٹو


انتیس اپریل کو کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کونافذ ہوئے 25 برس گزر گئے۔ چونکہ ان ہتھیاروں سے اندھا دھند لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں اوراذیت ناک تکالیف کا شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ1997 میں بین الاقوامی برادری نے کیمیائی ہتھیاروں پرمکمل طور سے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے نائب نمائندے رچرڈ ملز نے حال ہی میں کہا کہ چوتھائی صدی سے امریکہ اوردنیا کے دوسرے ممالک دنیا کو محفوظ اور کیمیائی ہتھیاروں سے پاک دیکھنے کا مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کوشش کی ہے کہ کوئی بھی کسی بھی مقام پر اور خواہ حالات کچھ بھی ہوں، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہ کر پائے۔

حالیہ برسوں میں اس کنونشن کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، خاص طور سے شام میں۔ بچّوں سمیت اپنے ہی عوام پر جن میں بے گناہ عام شہری بھی شامل تھے۔ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پربین الاقوامی برادری کے شدید ردِعمل کے بعد 2013 میں شام نےاس کنونشن میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی اور اعلان کیا کہ اس کے پاس جو کیمیائی ہتھیار ہیں، ان کو وہ تلف کر دے گا۔ سفیر ملز نے کہا کہ بد قسمتی سے شام کا یہ اعلان تشنہ تکمیل رہا۔

انہوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں شامل تمام ملکوں کی طرح شام نے کہا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیارکبھی بھی استعمال نہیں کرے گا۔ تاہم ہمیں آزاد رپورٹوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اسد حکومت نے کنونشن میں شمولیت کے بعد کم از کم آٹھ مرتبہ اپنے ہی لوگوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں۔

تصویرکا یہ رخ اس سے بھی زیادہ تاریک ہے، ابھی مزید واقعات زیرِتفتیش ہیں اورامریکہ کو اندازہ ہے کہ جب سے تنازعہ شروع ہوا ہے، اسد حکومت نے کم از کم 50 مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

سفیر ملز نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ شام کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت اپنی ذمّہ داریوں سے رو گردانی کرتا آ رہا ہے۔ اسد حکومت نےاسی چیمبرمیں کیمیائی ہتھیاروں پرامتناع کے ادارے ماہرین پرتعصب کا مضحکہ خیز الزام لگایا اور مصدقہ حقائق سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔

سفیر ملز نے مزید کہا کہ صورتِ حال کو مزید خراب کرنے کے لیے، روس بھی مسلسل الزامات لگاتا آرہا ہے اورشام کواس کے مظالم کی جواب دہی سے بچانے کی خاطرسلامتی کونسل کی قرار دادوں کو بارہا ویٹو کر چکا ہے۔

متعدد حملوں کے تھوڑے عرصے بعد سے ہی روسی حکام اورسرکاری کنٹرول میں چلنے والے الیکٹرانک اورسوشل میڈیا نے گمراہ کن اطلاعات اورخبروں کی مہم چلا رکھی ہے۔ ان کا مقصد شامی حکومت پر لگنے والے الزامات کا رخ موڑنا اورکسی اور پرالزامات عائد کرنے کی کوشش جاری رکھنا ہے۔

سفیر ملز نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھرشام سے کہتا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے تحت عائد اپنی ذمّہ ۔ انہوں نے کہا کہ شام کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنا بند کرے۔ بین الاقوامی نگرانی میں اپنے کیمیاوی اور عام تباہی پھیلانے والےہتھیاروں کے ذخائر کو ظاہر کرے۔

سفیر ملز نے کہا کہ ہم روس سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کرے اور شام کو کیمیاوی ہتھیاروں کے بلا جواز استعمال کی جواب دہی سے بچا کر کیمیاوی ہتھیاروں کے کنونشن کی اہمیت کم نہ کرے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**