Accessibility links

Breaking News

امریکہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے پرعزم


فائل فوٹو


بائیڈن-ہیرس انتظامیہ جبری مشقت کے جرم کا مقابلہ کرنے اورجبری مشقت سے بنائے گئے سامان کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے پوراعزم رکھتی ہے۔

اس مقصد کے لیے، ایغورجبری مشقت کی روک تھام کا ایکٹ،یا یوایف ایل پی اے، 21 جون کو نافذ ہوا۔ یہ ایکٹ سنکیانگا ایغورخود مختارعلاقہ (سنکیانگ) اورعوامی جمہوریہ چین کے بعض دیگراداروں سے امریکہ میں سامان کی درآمد پرپابندی لگاتا ہے۔ جب تک درآمد کنندہ یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ سامان جبری مشقت سے نہیں بنایا گیا تھا۔

چین سنکیانگ میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اس نے 10 لاکھ سے زائد مسلمان ایغوروں کے لیے حراستی کیمپ قائم کیے ہیں۔ جہاں جبری مشقت، تشدد اور جبری تربیت جاری ہے۔
سنکیانگ میں کیمپوں کے باہر بھی جبری مشقت جاری ہے اورکچھ ایغوراورسنکیانگ سے تعلق رکھنے والے کے مختلف علاقوں میں جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔

وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے نوٹ کیا کہ یہ ایکٹ امریکی کانگریس نے دو طرفہ حمایت کے ساتھ منظور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمۂ خارجہ سنکیانگ میں جبری مشقت کا مقابلہ جاری رکھنے اور انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کے خلاف بین الاقوامی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے کانگریس اور اپنے انٹرایجنسی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

"ہم نے سنکیانگ کی جواب دہی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، جن میں ویزا پابندیاں، 'گلوبل میگنٹسکی' کے تحت مالی پابندیاں، ایکسپورٹ کنٹرولز، ودہولڈ ریلیزآرڈرزاوردرآمدی پابندیاں شامل ہیں۔ اپنے انٹرایجنسی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہم کمپنیوں کویہ مسلسل یاد دلاتے رہیں گے۔ امریکہ کی یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ ان اشیا کی درآمد پرپابندی لگائی جائے جو جبری مشقت سے تیار کی جاتی ہوں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG