Accessibility links

Breaking News

افریقہ میں بھوک کے چاراسباب


فائل فوٹو

اقوام متحدہ میں امریکی سفیرلنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس موجود تمام جدید آلات کے باوجود آج ہم خوراک کی حفاظت کے بدترین عالمی بحران کا سامنا کر رہے ہیں جو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ افریقہ میں ہر پانچ میں سے ایک شخص غذائی قلت کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوراک کے عدم تحفظ کا مطلب ہے کہ خاندان اپنے بچوں کو مناسب کھانا فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بچوں کو وہ غذائیت نہیں مل رہی ہے جس کی انہیں اسکول میں کامیابی کے لیے ضرورت ہے اور بدترین صورتوں میں اس کا مطلب قحط ہےاور قحط کا مطلب موت ہے۔

لنڈا تھامس فیلڈ نے کہا کہ اسی لیے ہمیں بھوک کے خاتمے کا عزم کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے کے لیے، انہوں نے کہا، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ سب سے پہلے کھانے کے عدم تحفظ کی وجہ کیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ غذائی عدم تحفظ کی بڑی وجوہات میں کلائمیٹ (موسمیاتی تبدیلی)، کووڈ، کانفلکٹ اور انرجی شامل ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور چونکہ خوراک کی پیداوار میں توانائی ناگزیر ہے۔ اس لیے توانائی کی زیادہ قیمتوں کا مطلب زیادہ مہنگا کھانا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آب و ہوا کا بحران، قدرتی آفات، سیلاب، طوفان اور گرمی شدید لہروں کا بحران غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل کا موجب بنتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کرونا وبا نے ہمارے نظام کو ایک اضافی جھٹکا دیا ہے۔ کووڈ سے پہلے10 کروڑ لوگ خوراک سے محروم تھے، لیکن صرف تین برسوں میں یہ تعداد بڑھ کر19 کروڑ ہو گئی ہے۔

سفیر تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ تیسری اہم وجہ بھوک ہے ہے جو تنازعات کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ بھوک جوجان بوجھ کر پیدا کی جاتی ہے۔ بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ "یہ تمام مسائل توانائی، آب و ہوا، کووڈ، اور تنازعات کے ایک پیچیدہ ملغوبے کا نتیجہ ہیں جو ہماری زندگی کے بھوک کے بد ترین بحران کا باعث بنے ہیں۔

سفیرتھامس گرین فیلڈ نے افریقہ بھرمیں ستائے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے 127 ملین ڈالر سے زیادہ انسانی ہمدردی کی اضافی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ امداد مہاجرین، پناہ کے متلاشیوں، اندرونی طور پر بے گھر افراد اور بے وطن افراد کے لیے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات بھوک کو ہتھیار بنا سکتے ہیں اور لوگوں کو اپنے گھرچھوڑنے پر مجبورکر سکتے ہیں، جس سے آس پاس کے ممالک کے خوراک کے نظام پر دباؤ پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا، "اب وقت آگیا ہے کہ حکومتوں میں، ملکوں میں، لوگوں کے درمیان، بھوک کے خاتمے کے لیے مل کر کام کیا جائے ، اب وقت آگیا ہے کہ سول سوسائٹی اورنجی شعبے کے ساتھ شراکت داری قائم کی جائے، نئے آباد کاروں کو متحرک کیا جائے، نئی ٹیکنالوجیزاور بہتر تیکنیک سے فائدہ اٹھاتے ہوئےخوراک کے نظام اور مستقبل کے ڈھانچے کی تعمیر کی جائے

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG