طالبان کی طرف سے سیکنڈری اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی قابل ِمذمت ہے

فائل فوٹو


طالبان نے فیصلہ کیا ہے کہ چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد لڑکیاں سیکنڈری اسکول نہیں جا سکتیں۔ طالبان قیادت نے اس بارے میں جو وعدہ کیا تھا، یہ فیصلہ اس کی رو گردانی ہے اور ہزاروں لڑکیاں 23 مارچ کو جب اپنے اسکول گئیں اور وہاں دروازے بند دیکھ کر سخت مایوسی کا شکار ہوئیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ تعلیم ایک انسانی حق ہے، طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ تمام افغان اسکول جانے کے حقدار ہوں گے۔ لیکن اب وہ اپنے اس وعدے سے منحرف ہو گئے اور اس سلسلے میں ان کی بہانہ سازی کو امریکہ مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم افغان لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے تابناک مستقبل اور بہتر معیشت کے حصول لیے تعلیم ایک ذریعہ ہے۔

افغانستان میں خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے لیے امریکہ کی خصوسی سفیر رینا امیری نے اس امتناع کو افغان خاندانوں کے ساتھ وعدہ خلافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رائے عامّہ کے جائزے بتاتے ہیں افغان عوام کی اکثریت لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ہے اور انہیں تعلیم سے محروم کر دینا بلا جواز ہے۔

اگست 2021 میں طالبان نے اقتدار سنبھالا اور اس وقت سے ہی خواتین کو علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔ ان کے لباس، رویوں اور سفر پر پابندیا ں نافذ ہیں۔ افغان ٹی وی کو خواتین کے مسائل پر بات کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اورخواتین کے حقوق کا دفاع کرنے والے درجنوں سرگرم کارکنوں کو یا تو گرفتار کر لیا گیا ہے یا لاپتا کر دیے گئے ہیں۔

لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم سے محروم کرنے کے حالیہ فیصلے کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے۔ اسلامی تعاون کی تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ نے اس غیر متوقع فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ افغان عوام، لڑکے اور لڑکیوں کے حصول تعلیم سمیت ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔

چوبیس مارچ کو کینیڈا، فرانس، اٹلی، ناروے، برطانیہ ، امریکہ کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان کے اس انحراف کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے کو واپس لیں۔ افغان لڑکیوں کے نقصان کےعلاوہ اس کے مضمرات بہت گہرے ہوں گے۔ اگر اس کو واپس نہ لیا گیا تو اس سے افغانستان کے سماجی استحکام اور معاشی ترقی کے امکانات معدوم ہو جائیں گے، ملکوں کی برادری میں ایک قابلِ احترام رکن بننے کی طالبان کی خواہش پر پانی پھر جائے گا اور بیرون ملک مقیم افغانی اپنے ملک واپس آنے کا خیال ترک کر دیں گے۔ اس سے طالبان کی طرف سے اندرون و بیرون ملک اپنے لیے سیاسی حمایت اور اپنی حکومت کے قانونی جواز کو تسلیم کروانے کے امکانات پر ناگزیراثرات پڑیں گے۔

بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ ہر افغان شہری، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، مرد ہو یا عورت، سب کو ملک کےتمام صوبوں میں اور ہرسطح پرحصول تعلیم کا مساوی حق حاصل ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**