Accessibility links

Breaking News

یوکرین کے مستقبل کی پیش بندی


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ولادی میرپوٹن کی فوجوں کی یوکرین میں وحشیانہ جنگ شروع کرنے کے ایک سال بعد، امریکہ، جرمنی اوریوکرین کے وزرائے خارجہ نے میونخ، جرمنی میں یوکرین کے مستقبل سے متعلق اپنے وژن کے بارے میں سوال و جواب کی ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ تینوں نے اس بات پراتفاق کیا کہ جنگ اسی وقت ختم ہوجائے گی جب روس لڑائی بند کر دے گا اوراپنی فوجیں نکال لے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یوکرین میں امن شروع ہونے سے پہلے روس کوجنگی پیش قدمی کے بعد کس حد تک پیچھے ہٹنا چاہیے؟ کیا روس کی طرف سے فروری 2022 سے پہلے کی سرحدی پوزیشن پراپنی فوجیں واپس بلانے کے بعد جنگ ختم ہو جاتی ہے؟ یا پوٹن کی فوج کے فروری 2014 میں یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا پرحملے سے قبل کی اپنی پوزیشن پر واپس آنے کے بعد ہی تنازعہ ختم ہو سکے گا؟

وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا یہ سب یوکرین کے عوام پرمنحصر ہے۔ "ہم اپنے یوکرینی دوستوں کے اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلوں کی حمایت کریں گے، لیکن کوئی بھی امن اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ "بنیادی طور پرایسا اقدام دنیا بھر کے تمام ملکوں کے مفادات کے خلاف ہے جس کے نتیجے میں کسی نہ کسی طرح علاقے پر زبردستی قبضے کی توثیق ہوتی ہو۔ کیوں کہ اگرہم ایسا کرتے ہیں تو ہم پوری دنیا میں ایک پنڈورا باکس کھولیں گے اورمستقبل میں جارحیت کرنے والاہرملک یہ نتیجہ اخذ کرے گا کہ اگر روس اس میں کامیاب ہو گیا ہے تو ہم بھی بچ نکلیں گے۔ یہ عمل کسی کے مفاد میں نہیں ہے کیوں کہ یہ دنیا بھر میں تنازعات کی جڑ ہے۔

وزیر خارجہ بلنکن نے کہا کہ ہمارے مشترکہ مفاد میں صرف ایک منصفانہ اورپائیدارامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقدور بھرسب کچھ کرنا ہوگا کہ روس آئندہ صرف ایک سال یا پانچ سال بعد اس مشق کو نہیں دہرائے گا۔

دوسری چیزوں کےعلاوہ اس کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ یوکرین کے پاس جارحیت کو روکنے کی صلاحیت ہواوراگر ضروری ہو تواس کے خلاف مؤثر طریقے سے اپنے دفاع کے قابل ہو۔

اگرچہ ہم یوکرین کوروسی جارحیت سے نمٹنے کے لیے اس وقت درکار مدد فراہم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں مگراس کے ساتھ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ جنگ کے بعد کا مستقبل کیسا ہونا چاہیے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یوکرین اورپورے یورپ میں سلامتی اوراستحکام قائم رہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ "ہمیں یوکرین کی فتح اورکامیابی کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے اوراس کی ایک سادہ اورمستحکم وجہ ہے۔ کسی بھی چیز سے قطع نظر، بشمول وہ مدد جو ہم فراہم کر رہے ہیں سب سے بڑا واحد فرق یہ ہے کہ یوکرینی اپنے ملک کے لیے اپنے مستقبل کے لیے اپنی زمین کے لیے لڑ رہے ہیں جب کہ روسی ایسا نہیں کر رہے اوراس فرق کا یہی سب سے بڑا موجب ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG