Accessibility links

Breaking News

صومالیہ میں قحط سالی کا خطرہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

صومالیہ اور قرن افریقہ میں بعض دیگر مقامات پر لوگ مہینوں سے بارشوں کا انتظار کر رہے ہیں اور بعض صورتوں میں تو یہ برسوں کا انتظار ہو گیا ہے۔ خطے کے بعض حصے تو ایسے ہیں کہ وہاں برسات کے چار مسلسل موسم خشک گزر گئے۔ جو اس سے پہلے کبھی سننے میں نہیں آیا۔

بد قسمتی سے موسمیات کے عالمی ادارے کے مطابق اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ قرن افریقہ میں اکتوبر میں بارشوں کا پانچواں موسم بھی بن برسات گزر جائے۔ اس کا مطلب ہوا برباد فصلیں اور لاکھوں مویشیوں کی ہلاکت جس کا نتیجہ ہو گا بھوک۔ ناکافی غذائیت اور انتہائی صورتِ حال میں اموات۔

ستمبر کے اوائل میں اقوامِ متحدہ کی انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکشن فیمین ریویو کمیٹی نے خبردار کیا تھا کہ اگر ہنگامی انسانی امداد میں بھاری اضافہ نہ کیا گیا تو جنوبی صومالیہ میں قحط والی صورتِ حال ہو گی۔

قحط کا اعلان اس صورت میں ہو سکتا ہے، اگر بیس فی صد گھرانوں کو خوراک کی انتہائی قلت کا سامنا ہو۔اگر 30 فی صد بچوں کو شدید نوعیت کی ناقص غذایئت کا سامنا ہو اور اگر خطے میں ہر دس ہزار افراد میں سے دو بالغ یا چار بچے روز انہ کی بنیاد پر بھوک سے ہلاک ہوں یا پھر غذا کی قلت کمزوری نقاہت اور بیماری کا سبب بنے۔

امریکی امدادے ادارے (یو ایس ایڈ) کی منتظمہ سمانتھا پاور کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی فیمین ریویو کمیٹی کی سخت نوعیت کی پیش گوئی اور پورے ملک میں بہت بڑے پیمانے پرانسانی مدد کی ضرورت پر امریکہ کو شدید تشویش ہے۔ 70 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے اور ان میں سے بہت سے اس کی فوری زد میں ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر پاور نے کہا کہ قحط سے اب بھی بچا جا سکتا ہے۔ آج انسانی بنیادوں پر امداد میں بڑااضافہ اب بھی بڑے پیمانے پر بھوک اور اموات سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن قحط کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے۔ اسے حقیقت بننے سے روکنے کا موقع تیزی سے ہاتھوں سے نکل رہا ہے اور آئندہ کئی ہفتے انتہائی نازک اہمیت کے حامل ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر پاور نے کہا کہ جہاں تک امریکی حکومت کا تعلق ہے۔ وہ یو ایس ایڈ کے ذریعے کام کر رہی ہے اور 2022 میں صومالیہ میں انسانی بنیادوں پر فنڈنگ کا آدھے سے زیادہ دے چکی ہے۔ صومالیہ میں خشک سالی سے نمٹنے کے لیے یو ایس ایڈ کی فنڈنگ صرف اس مالی سال میں چھ سو اڑسٹھ ملین ڈالر سے زیادہ ہے اور ہم مزید بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم کوئی ایک عطیہ دینے والا ملک یا کوئی ایک حکومت اکیلے اس بحران کو حل نہیں کر سکتی اور اسی لیے ہم تمام عطیات دینے والوں سے جن میں روائیتی عطیات دینے والے اور نئے عطیات دینے والے شامل ہیں کہہ رہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر بھوک اورموت سے بچنے میں مدد دینے کے لیے اسی وقت آگے بڑھیں۔ قحط کا انتظار کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG