Accessibility links

Breaking News

خلیج تعاون کونسل کی ایران کے ساتھ سفارت کاری کی حمایت


فائل

امریکہ اور خلیج تعاون کونسل یا جی سی سی میں شامل چھ ملکوں نے حال ہی میں ریاض میں جی سی سی کے صدر دفتر میں ایران سے متعلق اپنے ورکنگ گروپ کا اجلاس کیا۔

یہ میٹنگ ان مذاکرات سے بارہ دن پہلے ہوئی جو ایران اور پی فائیو پلس ون کے درمیان مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) میں باہمی واپسی پر تبادلہ خیال کے لیے کیے جانے تھے۔ ایک مشترکہ بیان میں جی سی سی اور امریکہ نے ویانا میں جے سی پی او اے مذاکرات کے ساتویں دور کا خیرمقدم کیا اور اس بات کااظہار کیا کہ جے سی پی او اے پر مکمل عمل درآمد کے لیے باہمی طور پر فوری واپسی کا اہتمام کیا جائے۔

اس سے ان اجتماعی کوششوں کا راستہ ہموار ہو سکے گا جن کی مدد سے ان تمام مسائل پر توجہ دی جاسکے گی جن کا تعلق پائیدار تحفظ، سلامتی اور علاقے کی خوشحالی کو یقینی بنانے سے ہے۔

امریکہ اور جی سی سی نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ ایران کا جوہری پروگرام سنگین تشویش کا باعث ہے اس لیے کہ ایران نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کا سویلین استعمال سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے سے پوری طرح تعاون کرے۔

انہوں نے علاقے میں مسلح ملیشیا کے لیے ایران کی خطرناک حمایت پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور ایران کی وسیع جارحانہ اور خطرناک پالیسیوں کی مذمت کی جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور جدید بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے پرواز کرنے والے طیاروں کے براہِ راست استعمال کا نظام شامل ہے۔

امریکہ اور جی سی سی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایران کے لیےان بڑھتے ہوئے مسائل کے بارے میں بہتر متبادل موجود ہے اور انہوں نے کہا کہ ایران ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم علاقے کے لیے خدمات انجام دے سکتا ہے۔

جی سی سی کے ارکان نے ایران کے ساتھ سفارتی چینل قائم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں یہ علاقائی سفارتی کوششیں پر امن تعلقات کو فروغ دینے میں معاون ہوں گی۔

امریکہ اور جی سی سی نے یہ بھی کہا کہ جے سی پی او اے کے تحت امریکی تعزیرات کے اٹھائے جانے کے بعد گہرے اقتصادی تعلقات علاقے کے باہمی مفاد میں ہیں۔

ایران کے بارے میں ورکنگ گروپ کی میٹنگ کے ایک دن بعد ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ ملے نے جی سی سی، ای تھری، مصر اور اردن کے نمائندوں کےساتھ تبادلۂ خیال کے لیے ریاض میں ملاقات کی۔ میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ بیان میں ان فوائد کی اہمیت اجاگر کی گئی جو جے سی پی او اے میں باہمی واپسی اور اس پر عمل درآمد سے ایران کے عوام سمیت پورے مشرق وسطی کو حاصل ہوں گے۔

میٹنگ کے بعد خصو صی ایلچی رابرٹ ملے نے ایک ٹوئٹ میں خبردار کیا کہ اب ایران کے پاس دو نئے راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ نیوکلئیر معاملے میں بدستور تیزی اور بحران کو جاری رکھے یا جے سی پی او اے میں باہمی واپسی پر رضامند ہو جائے جس سے علاقائی سطح پر اقتصادی اور سفارتی رشتوں کے لیے مواقع پیدا ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ راستے کے انتخاب کے لیے وقت تھوڑا ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG