Accessibility links

Breaking News

ایران کے جوہری معاملات پر مذاکرات کی بحالی


فائل فوٹو

ایران نے پانچ مہینے کے تعطل کے بعد جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یورپی یونین نے جو بات چیت میں رابطے کا کام دے رہی ہے، اعلان کیا ہے کہ تمام شرکا ویانا میں 29 نومبر کو مذاکرات کے ساتویں دور کے لیے ملاقات کریں گے اور مشترکہ جامع ایکشن پلان یا عمل درآمد کی خاطر امریکہ اور ایران دونوں کی واپسی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے جو پی فائیو پلس ون میں شامل ہیں، حال ہی میں ایران پر زور دیا کہ وہ موقع سے فائدہ اٹھائے اور فوری طور پر مذاکرات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانےکے لیے نیک نیتی سے کوششوں میں شامل ہوجائے۔ ایک مشترکہ بیان میں صدرجوبائیڈن، جرمن چانسلر انگلا مرخیل، فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں اور برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا کہ صورتِ حال کو کسی خطرناک موڑ پر جانے سے روکنے کے لیے جو کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے، یہ واحد کامیاب راستہ ہے۔

چاروں راہنماؤں نے سنگین اور بڑھتی ہوئی تشویش کے ساتھ اس جانب توجہ دلائی کہ ایران نے جوہری معاملے میں اپنی اشتعال انگیز کارروائیوں کی رفتار کو تیز کردیا ہے جن میں نہایت افزودہ یورینیم کی پیداوار اور افزودہ یورینیم دھات کی تیاری شامل ہے۔ اور یہ کہ ایران نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ساتھ تعاون اور شفافیت میں کمی کر دی ہے۔

چاروں نے اس بات کا عہد کیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ تیار کر سکے اور نہ ہی یہ ہتھیار حاصل کر سکے۔

ایک پریس بریفنگ میں محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے مذاکرات میں واپسی کے لیے ایران کی رضامندی کا اعتراف کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ بدستور ممکن ہے کہ چھوٹے موٹے مسائل کو حل کر کے جو جون کےآخر میں جب چھٹا دور ختم ہوا تھا باقی رہ گئے تھے، ہم تیزی کے ساتھ معاہدے پر مشترکہ طورپر واپس آسکیں اور اس پر عمل درآمد کر سکیں۔ تاہم اس معاملے میں بھی ہمارا ذہن صاف ہے کہ یہ موقع ہمیشہ کے لیے دستیاب نہیں رہے گا جب کہ کچھ عرصے سے یہ طول پکڑتا رہا ہے، خاص کر اگر ایران جوہری معاملات کے ضمن میں اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رکھتا ہے۔

ترجمان نیڈ پرائس نے واضح طو ر پر کہا کہ ہم اس پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس مہینے جب ایرانی وفد ویانا مذاکرات میں واپس آئے گا تو وہ ایسا مستعدی کے ساتھ بات چیت کی خاطر کرے گا اور وہ تیزی کے ساتھ مذاکرات کے لیے اور ساتھ ہی نیک نیتی سے اس کا فیصلہ کریں گے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG