Accessibility links

Breaking News

مذہبی آزادی کا فروغ اخلاقی ضرورت


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی محکمۂ خارجہ نے حال ہی میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں اپنی 23 ویں رپورٹ کا اجرا کیا۔

بین الاقوامی مذہبی آزادی کے دفتر میں سینئر عہیدار ڈینئل نیڈل نے وضاحت کی ہے کہ ان رپورٹوں سے سبھی کے لیے مذہب کی آزادی یا عقیدے کے دفاع کو فروغ دینے سے متعلق امریکہ کے مصمم عہد کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اس تحفظ سے بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے جس کی ہمیں ہماری پہلی ترمیم کی وساطت سے ضمانت دی گئی ہے اور یہ فطری بات ہے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس تجربے کی دولت میں دوسروں کو بھی شریک کریں۔

سینئر عہدے دار نیڈل نے کہا کہ مثال کے طور پر ہم نے محسوس کیا ہے کہ مذہبی تقریر یا اظہارِ خیال کو محدود کرنا اور حتیٰ کہ انہیں مجرمانہ زمرے میں ڈھالنا رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا اچھا طریقہ نہیں ہے۔

توہینِ مذہب سے متعلق قوانین، خاص کر جب وہ نقصان دہ ہیں، ہمیں ان قوانین پر بھی تشویش ہے جو لوگوں کے اس اختیار کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ مذہبی نوعیت کے لباس یا علامتوں کا استعمال کریں یا نہ کریں یا صرف ایسے قوانین پر جن کے تحت والدین کے اس فیصلے پر زد پڑتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مذہبی تعلیم دیں یا نہ دیں۔

مسٹر نیڈل نے وضاحت کی کہ مذہبی طرزِ زندگی سے متعلق بہت زیادہ سرکاری قوائد کی وجہ سے شہری اپنی حکومتوں سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں اور اس سے تشدد کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہت سے ملکوں میں حکام بدستور رجسٹریشن کے قوانین یا مذہبی مواد پر پابندیوں کے ذریعے مذہبی اظہارِ خیال پر پابندیاں لگاتے ہیں۔

اب ہم اس بات کا بہت زیادہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ حکومتیں یہی طریقہ کار انٹرنیٹ کے معاملے میں بھی استعمال کر رہی ہیں جہاں عہدے دار مذہبی اظہارِ خیال پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور سختی سے سینسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو جو مذہب یا عقیدے کے معاملے میں آن لائن اظہارِ خیال میں مصروف ہوتے ہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے یا ہراساں کیا جاتا ہے۔

مسٹر نیڈل نے کہا کہ دنیا کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر ممکنہ مظالم کے بارے میں پیشگی انتباہ کا بدستور ادراک رکھے۔ چند ہی برسوں کے اندر ہم نے یزیدیوں، عیسائیوں اور شمالی عراق اور شام میں دوسری نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف 'آئی ایس آئی ایس' کی جانب سے نسل کشی کے واقعات دیکھے ہیں۔

ہم نے وسیع پیمانے پر مظالم کا مشاہدہ کیا ہے ان میں روہنگیا کے خلاف برما کی فوج کی جانب سے کی جانے والی نسلی تطہیر شامل ہے اور چین کی حکومت سنکیانگ میں مسلمان ایغور اور دوسری نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے ارکان کے خلاف انسانیت سوز جرائم اور نسل کشی کر رہی ہے۔

مسٹر نیڈل نے برملا کہا کہ امریکہ نے اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا جن میں مثبت اور تادیبی دونوں طریقہ کار شامل ہیں۔ بہت سے لوگوں اور دنیا بھر میں برادریوں کے لیے جن کی کہانیوں سے یہ رپورٹ بھری ہوئی ہے ہمارا پیغام واضح ہے۔

ہماری نظریں آپ پر ہیں، ہم گوش بر آواز ہیں اور ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آپ سب وقار اور امن کے ماحول میں آزادانہ طور پر اپنی زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG