Accessibility links

Breaking News

سب صحارا افریقہ میں بجلی کی قابلِ اعتبار ترسیل


فائل فوٹو


سب صحارا افریقہ میں اب تک بجلی کی فراہمی ناقابل اعتبار ہے اور بار بار منقطع ہو نے والی بجلی کی سپلائی سے خاص طور پرطبّی پیشے کی کارکردگی اورمریضوں کا علاج معالجہ متاثر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے کی دو تہائی طبی سہولتوں کے مراکز کو بجلی کی فراہمی قابلِ بھروسہ نہیں ہے اور ایک چوتھائی تو بجلی کی سہولت سے یکسر محروم ہیں۔

یہ صورتِ حال کووڈ19 کی ویکسین کی منتقلی کے وقت مزید مشکل کا باعث ہو گئی کیونکہ اس کوریفریجریٹر میں رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یو ایس ایڈ کی منتظم اعلیٰ سمانتھا پاور نے حال ہی میں اپنی ایک تقریر میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ کرنے کی ٹھنڈی جگہوں پر بجلی کی فراہمی منقطع ہونا ویکسین کی لاکھوں خوراکیں ضائع ہونے یا پھینکنے کا باعث بن رہا ہے۔

متواتربجلی کی فراہمی رک جانا نہ صرف مشکلات کا باعث ہے بلکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ سے ڈاکٹر اپنی پیشہ وارانہ ذمّہ داریاں ادا نہیں کر سکتے اور وہ پیچیدہ آپریشن نہیں کر پاتے۔ اسی طرح ہنگامی طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ اوراس کے نتیجے میں ایسی بہت سی غیر ضروری اموات ہوتی ہیں، جنہیں روکا جا سکتا تھا۔

منتظمہ پاور نے کہا کہ بجلی کے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے گیس جنریٹرز جیسے پرانے اورفرسودہ طریقوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان سے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل اوربھی بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ کی جانب سے کووڈ19 کے خلاف عالمی کوششوں کے طور پر 'پاور افریقہ' پروگرام کے تحت 26 لاکھ ڈالر کی گرانٹ شمسی توانائی کی نو کمپنیوں کو دی جا رہی ہے جو220 سے زیادہ ایسے کلینکس کو بجلی فراہم کریں گی، جہاں اس وقت بجلی موجود نہیں ہے۔

ان کوششوں میں ایک حصّہ دار "ون پاور" نامی کمپنی ہے۔ یہ جنوبی افریقہ میں قائم ایک کمپنی کے اشتراک سے دورافتادہ دیہی ہیلتھ کلینکس کو شمسی پینلز فراہم کر رہی ہے۔

یو ایس ایڈ نے سب صحارا افریقہ کے تمام علاقوں میں بجلی بہم پہنچانے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے جسے پاورافریقہ کے ہیلتھ کیئرالیکڑیفیکیشن اینڈ ٹیلی کیمیوکیشن اتحاد کا نام دیا گیا ہے۔

صدر بائیڈن کے گلوبل انفراسٹرکچر پروگرام کے ایک حصّے کے طور پر یہ اتحاد اگلے پانچ برسوں میں دس ہزار سے زیادہ کلینکس کو بجلی فراہم کرے گا۔ یہ کلینکس با اعتبار اورقابلِ تجدید تونائی کے پلیٹ فارمز پر تعمیر کیے جائیں گے اور ایک دوسرے سے ڈیجیٹل طور پرمنسلک ہوں گے۔ اس طرح وہ علاقے میں دوسرے کلینکس اور ڈاکٹروں سے بہتر طور پررابطے میں رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کرکام بھی کر سکیں گے۔

منتظمہ سمانتھا پاور نے کہا کہ اس طرح کے بڑے ترقیاتی حل اکیلے نہیں کیے جا سکتے، اسی لیے ہم نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے نجی شعبے کے 20 سے زیادہ اراکین کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ یہ اتحاد پورے سب صحارا افریقہ میں لاکھوں لوگوں کو صحت کا بہتر ماحول دوست اورڈیجیٹل طور پر مربوط نظام مہیا کرے گا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG