Accessibility links

Breaking News

عالمی برادری شام کے عوام کی لازمی مدد کرے


فائل فوٹو


شام میں جمہوری اصلاحات کے لیے عوام تقریباً 11 سال سے پرامن احتجاج کر رہے ہیں جن کو اسد حکومت بھاری توپ خانے، بیرل بموں اور زہریلی گیسوں سے کچل رہی ہے۔

حکومت کے بہیمانہ ردِعمل کی وجہ سے یہ پرامن عوامی احتجاج خانہ جنگی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس دوران تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد اس تشدد کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ اندرون ملک بے گھر ہو گئے یا ملک چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔

اس وقت جو لوگ شام میں موجود ہیں، ان کی لگ بھگ 60 فی صد آبادی یعنی ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ افراد کو خاص طور سے اس موسم سرما میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی شدید ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ کا کہنا ہے کہ لاکھوں شامی عوام کو نقطۂ انجماد سے نیچے کے درجۂ حرارت والے انتہائی سرد موسم کا سامنا ہے۔ کرونا وبا اور معاشی بحران کی وجہ سے یہ صورتِ حال اور بھی تکلیف دہ ہو گئی ہے۔ جب سے یہ بحران شروع ہوا ہے، خوراک کی قلت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

شمالی شام میں لاکھوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔ سفیر گرین فیلڈ نے مزید کہا کہ آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں۔

اس اشد ضرورت کے وقت لازم ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بلا روک ٹوک امداد فراہم کی جا سکے۔ خاص طور سے کرونا ویکسین سمیت طبّی سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔

برسوں سے غیر سرکاری امدادی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے امدادی کارکنوں کو شکایت ہے کہ اسد حکومت اس امداد کی فراہمی میں رخنے ڈال رہی ہے، تاخیری حربے آزماتی ہے اور طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتی ہے۔

حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے عوام جن علاقوں میں مقیم ہیں وہاں اقوامِ متحدہ کی امداد کی ترسیل کے لیے صرف ایک راستہ کھولا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو جولائی میں باب الہوا کی راہداری کو دوبارہ کھولا جائے۔ اسد حکومت اور اس کے روسی اتحادی زور دیتے ہیں کہ امداد کی ساری رسد دمشق یا فرنٹ لائن کے راستے پہنچائی جائے۔

امریکہ اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ شامی عوام تک ہر طریقے سے امداد کی ترسیل جاری رہنی چاہیے۔ انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے لیے صرف طے شدہ راستے سے امداد ان علاقوں تک پہنچانا خطرناک اور مشکل ہوجاتا ہے، جو اسد حکومت کے کنٹرول سے باہر کا علاقہ ہے۔ سفیر گرین فیلڈ نے کہا کہ سرحد پار امداد پہنچانا متبادل نہیں بلکہ تکمیل کنندہ ہے۔

سفیرتھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ تمام ملکوں کی برادری کو مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ نہ صرف باب الہوا ہمیشہ کھلا رہے بلکہ شام کی سرحد کے تمام راستے انسانی ہمدردی کی امداد پینچانے کے لیے بہم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کہ اگر ہم سیاست کو ایک طرف رکھ کر صرف شام کے عوام کے لیے امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کریں تو اس سادے سےعمل کے ذریعے ہم وہ تمام ضروری اشیا ان لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں جن کو ان کی شدید ضرورت ہے۔

شام میں انسانی بحران بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ پمیں انسانی مصائب کو ختم کرنے کے لیے حسبِ استطاعت سب کچھ کرنا چاہیے اور شام کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے اقدامات کو عملی شکل دینا ہوگی۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG