Accessibility links

Breaking News

امریکہ چٹان کی طرح تائیوان کے ساتھ کھڑا ہے


فائل فوٹو

ہند بحرالکاہل اُمور کے لیے وائٹ ہاؤس کے رابطہ کار کرٹ کیمپبل نے ایک اجلاس میں کہا کہ تائیوان کو امن کے ماحول میں رہنے کا حق ہے۔ اس اجلاس کی میزبانی ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ اور ایشیا سوسائٹی نیویارک نے کی۔

رابطہ کار کیمپبل نے مزید کہا کہ ہم نے پورے آبنائے تائیوان میں بچاؤ کا ایک بہت واضح پیغام بھیجنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ تائیوان کے خلاف کوئی بھی کارروائی تباہ کن ہو گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ چین جب ایسے اقدامات کرے جو بین الااقوامی ضابطے کے لحاظ سے مکمل طور پر غیر اخلاقی ہوں تو ہم خبردار کریں۔ یہ نہ صرف ہانگ کانگ کے لیے ضروری ہے بلکہ ان دوسری چیزوں کے لیے بھی جن کے بارے میں چین ارادہ کر سکتا ہے۔

محکمہؐ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ آبنائے سے متعلق مسائل کے ایک ایسے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا جو تائیوان کے لوگوں کی دیرینہ خواہشات اور ان کے بہترین مفادات سے ہم آہنگ ہو۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے بارہا بیجنگ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے خلاف اپنا فوجی، سفارتی اور اقتصادی دباؤ بند کر دے اور اس کے بجائے تائیوان کے ساتھ معنی خیز مکالمہ کرے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے بارہا کہا ہے کہ کسی بھی فریق کی جانب سے یہ بہت بڑی غلطی ہو گی کہ وہ طاقت کے ذریعے اس موجودہ صورتِ حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔

ترجمان پرائس نے اعادہ کیا کہ تائیوان کے ساتھ ہماری وابستگی چٹان کی مانند ٹھوس ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وابستگی آبنائے تائیوان کے پورے علاقے اور وسیع تر خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے مٰیں مدد فراہم کرتی ہے۔

چار عشروں سے امریکہ کی پالیسی میں استقلال رہا ہے جس کا اظہار تائیوان کے ساتھ تعلقات کے ایکٹ، تین مشترکہ اعلامیوں، اور تائی پے کو دی جانے والی چھ یقین دہانیوں سے ہوتا ہے۔

ترجمان پرائس نے اس بات پر زور دیا کہ اس میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہ حقیقت ہے کہ چند مہینے پہلے محکمۂ خارجہ نے رابطے سے متعلق تازہ رہنما اصول ترتیب دیے جس سے امریکہ کو اس بات کو موقع ملے گا کہ وہ تائیوان کے لوگوں کے ساتھ اپنی شراکت داری کو گہرا کر سکے۔

وائٹ ہاؤس کے رابطہ کار کیمبل نے کہا کہ آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام برقرار رکھنے میں امریکہ کے غیر معمولی اہم مفادات مضمر ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG