سنجار قتلِ عام کی یاد میں

فائل فوٹو


تین اگست کو شمالی عراق میں یزیدی برادری پر داعش کے دہشت گردوں کے حملے کی آٹھویں برسی منائی گئی۔ اس حملے کے دوران انہوں نے ان لوگوں اور ان کی ثقافت کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ واقعات کی بربریت یزیدی برادری کے لیے تباہی اورداعش کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

تین اگست 2014 کو داعش کے دہشت گردوں نے شمالی عراق کے شہر سنجار پر قبضہ کر لیا۔ اس قصبے کی آبادی 90 ہزارافراد پر مشتمل تھی جن میں سے زیادہ تر یزیدی تھے، ان کے علاوہ تھوڑی تعداد میں شیعہ اقلیت بھی تھی۔

یزیدی ایک غیرمسلم مذہبی اورنسلی اقلیت ہے۔ انہیں ان کے عقائد کی وجہ سے داعش کی طرف سے بری طرح سے نشانہ بنایا گیا ہے اوران پرطرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے اوران کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان پراکثر اسی طرح کے حملے ہوتے رہے ہیں۔

جب داعش نے سنجار اورآس پاس کے دیہی علاقوں پرقبضہ کر لیا تو انہوں نے فوری طور پر یزیدی مزارات کو تباہ کرنا اور یزیدی شہریوں کوقتل کرنا شروع کر دیا۔ ہزاروں لوگوں کو، خاص طور پر مردوں اورلڑکوں کو سزائے موت دی گئی، جب کہ مزید ہزاروں، خاص طور پرخواتین اورلڑکیوں کو داعش کے جنگجوؤں نے اغوا کیا۔

شہر اور آس پاس کے دیہات سے اپنے گھروں سے بھاگنے والے 2 لاکھ لوگوں میں سے تقریباً 50 ہزار افراد نے ماؤنٹ سنجارپر پناہ لی۔ وہاں بھی انہیں داعش کے جنگجوؤں نے گھیر لیا۔ تین دنوں کے اندر درجنوں یزیدی، جن میں تقریباً سبھی بچے تھے، پانی کی کمی سے مرنے لگے۔ انہوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر میں خاندانوں کو فون کیا، محاصرے سے بچانے کے لیے مدد کی درخواست کی۔

چار اگست 2014 کو یزیدیوں کے امیر نے عالمی رہنماؤں سے مدد کے لیے درخواست کی۔ امریکہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے، داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف فضائی حملے کیے، خوراک اور پانی طیاروں کے ذریعے انہیں فراہم کیا، امریکہ نے انسانی امداد کی فراہمی کے ان کاموں میں عراقی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

یہ پہلی کارروائی تھی جس کی وجہ سے داعش کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل ہوئی، اور داعش کے خاتمے کا آغاز ہوا۔ دسمبر 2014 کے وسط تک کرد فورسز نے سنجار سے داعش کو نکالنے کے لیے مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا، سال کے اختتام سے قبل سنجار شہر کے کچھ حصوں کو آزاد کرا لیا گیا۔ 13 نومبر 2015 کو، دوسری کارروائی شروع کرنے کے ایک دن بعد، کرد اور یزیدی افواج نے، جن کی حمایت اتحادی فضائی حملوں سے کی گئی، داعش سے سنجار کا مکمل طور پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

عراق اور شام میں داعش کو شکست ہوئی ہے، لیکن یہ گروپ مکمل تباہ نہیں ہوا۔ لڑائی جاری ہے۔ یہ بربریت کے خلاف تہذیب کی لڑائی ہے۔ اور اس کا مظاہرہ سنجار سے زیادہ کہیں نہیں ہوا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**