روسی رکاوٹوں کے باوجود جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ مضبوط

فائل فوٹو

جوہری عدم پھیلاؤ کے اہم معاہدے پر نظرِ ثانی کے حصے کے طور پرہفتوں مذاکرات کے بعد روسی حکومت نے نیوکلیئرنان پرولیفریشن ٹریٹی یا این پی ٹی سے متعلق دسویں ریویو کانفرنس کے اختتام پر حتمی دستاویز پر اتفاقِ رائے کو روکنے کا فیصلہ کیا۔

روس نے اس دستاویز کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس میں زاپورژیا نیوکلیئرپاورپلانٹ کا کنٹرول "مجاز یوکرینی حکام" کو واپس کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

تقریباً 150 شریک ممالک میں سے صرف روس ہی تھا جس نے اس دستاویز کے مندرجات پراعتراض کیا، اس میں جوہری خطرے میں کمی لانا، جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو وسعت دینا اوربہت سے دوسرے اہم امور شامل تھے۔

معاہدے کے فریقوں نے ایسے تمام اقدامات پر اتفاق کیا جن میں ہتھیاروں کا کنٹرول، اس کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والے بحرانوں کا خاتمہ اور پرامن ایٹمی توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجیز تک رسائی کو وسعت دینا شامل ہے۔
خاص طور پر جنوبی نصف کرہ کی ریاستوں کے درمیان وسیع رسائی کی ضرورت کی توثیق کی گئی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان وردانت پٹیل نے باور کروایا کہ قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ ایک مشکل اور صبر آزما بین الاقوامی سیاسی اور سلامتی کے ماحول میں رُکن ملکوں کا تعاون قابلِ تحسین ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان پٹیل نے کہا کہ دریں اثنا روسی حکومت کا زبردست بین الاقوامی اتفاق رائے کے باوجود اس مطالبے کو قبول نہ کرنا کہ روس پاور پلانٹ کے قریب اپنی فوجی سرگرمیاں ختم کردے اوراس کا کنٹرول یوکرین کو واپس کردے، اس ضرورت کی اہمیت کو اور بھی واضح کرتا ہے کہ اس بارے میں روس پرمزید دباؤ ڈالا جائے ۔ زاپورژیا نیوکلیئر پاورپلانٹ یورپ کا سب سے بڑا جوہری پاورپلانٹ ہے، اورمارچ سے روسی افواج کے قبضے میں ہے۔

روس کی مذموم رکاوٹ کے باوجود یہ حقیقت کہ کانفرنس میں شریک دیگر تمام ممالک نے حتمی دستاویزکی حمایت کی، اس معاہدے کی پائیداری اور جوہری پھیلاؤ کو روکنے اورایٹمی جنگ کے خطرے کوٹالنے میں اس کے اہم کردار کی نشان دہی ہے۔

امریکہ جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے امن اور سلامتی کے حصول کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ یہ معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے اور رہے گا۔ یہ معاہدہ جوہری تخفیف اسلحہ او جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔


حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**