ہند بحرالکاہل میں استحکام کے لیے ضوابط

فائل فوٹو

امریکہ کے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے سنگاپور میں ایک تقریر میں کہا ہے کہ ہند بحرالکاہل اس صلاحیت کا حامل ہے کہ وہ عالمگیر وبا کے بعد تعمیرِ نو کا کام کر سکے اور زیادہ روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی کر سکے جس کی بنیاد قوائد و ضوابط سے آراستہ مزید مضبوط بین الاقوامی نظام پر ہو۔

وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری اجتماعی کوششوں سے ہند بحرالکاہل کا علاقہ ایک مرتبہ پھر چیلنج کے آگے سینہ سپر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا جواب تین باتوں میں مضمر ہے جن تمام کی جڑیں شراکت داری میں پیوستہ ہیں۔

اول تو یہ کہ سب سے اہم کام بحالی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم کووڈ کے خلاف جنگ کو دو چند کر دیں اور ایک محفوظ، صحت مند اور زیادہ خوش حال مستقبل کی تعمیر کریں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم مزید آگے کی جانب نظر رکھیں اور امریکہ کی سلامتی کے بنیادی ستون کے طور پر بچاؤ کے پہلو پر توجہ دیں۔ وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ عشروں تک ہم نے تنازع سے بچنے اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتوں، اپنی موجودگی اور تعلقات کو برقرار رکھا ہے جن کی ضرورت ہے۔

وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ ہم 21 ویں صدی کی ایک نئی سوچ کے تحت کام کر رہے ہیں، جسے میں مربوط بچاؤ کا نام دیتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نئی صلاحیتوں کی تعمیر عمل میں لا کر انہیں مربوط طریقے سے استعمال میں لایا جائے۔

وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ تیسری بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہی امریکہ تائیوان کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ وہ خود اپنی صلاحیتوں کی تعمیر کر سکے اور خطرات اور دھمکیوں کے تدارک کے لیے اپنی تیاری میں اضافہ کر سکے، جو تائیوان سے تعلقات کے ایکٹ کے تحت ہمارے عہد کا آئینہ دار اور ہماری چین کی پالیسی سے ہم آہنگ ہو۔

تائیوان کے ساتھ ہماری مددگار شراکت ان اقدامات سے یکسر مختلف ہے جو بیجنگ نے اختیار کر رکھے ہیں اور جن سے علاقہ مستقل عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔ وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ جنوبی بحیرۂ چین کے وسیع علاقے پر بیجنگ کے دعوے کی بین الاقوامی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

وزیرِ دفاع نے متنبہ کیا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ تنازعات کو حل کرنے اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے سے بیجنگ کے انکار کا تعلق صرف پانیوں تک محدود نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کے خلاف جارحیت بھی دیکھی ہے اور ساتھ ہی عدم استحکام کا شکار کرنے والی فوجی سرگرمی اور تائیوان کے خلاف دھمکیوں کے دوسرے طور طریقے بھی اور پھر سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز جرائم اور نسل کشی کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔

وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ اگر ہمارے مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم متزلزل نہیں ہوں گے۔ تاہم یہ کہ ہم محاذ آرائی بھی نہیں چاہتے۔ حتمی ہدف یہ ہے کہ ایک ایسے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل کی تشکیل عمل میں لائی جائے جس کا دائرہ شراکت داری، خوش حالی اور ترقی سے عبارت ہو۔

وزیرِ دفاع آسٹن نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم مل جل کر اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر اور زیادہ روشن مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**