Accessibility links

Breaking News

افغانستان میں اقلیتوں پر حملوں کی مذمت


فائل فوٹو

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے 19 اپریل کو ایک بیان جاری کیا جس میں کابل میں ممتاز ایجوکیشنل سینٹر اور عبدالرحیم شاہد اسکول پر بیہمانہ حملوں پر امریکہ سمیت تمام بین الاقوامی برادری نے شدید غم و غصّے کا اظہار کیا ہے اور ہلاک ہونے والوں کے عزیزوں اور خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ اپریل میں ہزارہ شیعہ برادری کے شہریوں پر متعدد حملوں کے لیے داعش خراسانی کو ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

کابل میں ہی رمضان کے آخری جمعے کوایک صوفی مسجد پر حملہ ہوا جس میں عبادت گزار مارے گئے اور مسجد مسمار ہو گئی۔ اس کی ذمے داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی۔ کابل کے مغرب میں خلیفہ صاحب مسجد کو بم کے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ مسجد کی چھت نمازیوں پر گر پڑی اور کم از کم 10 افراد اپنی جان سے گئے اور 15زخمی ہو گئے جب کہ مقامی اسپتالوں کی اطلاع کی بنا پراقوامَ متحدہ کا کہنا ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب نمائندہ برائے افغانستان میٹ کنوڈسن نے کہا کہ ایسے میں جب پورے افغانستان میں عید منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی اس شرمناک کارروائی کی مذمت کے لیےسخت سے سخت الفاظ بھی ناکافی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپریل میں ہونے والے لگا تار حملوں پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ دہشت گردی اپنی ہر صورت میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین ترین خطروں میں سے ایک ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی نائب ترجمان جالینا پورٹر نے بھی سخت الفاظ میں اقلیتی برادری پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اقلیتوں سمیت تمام افغان باشندوں کے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق آزادی سے بلا خوف و خطرعبادت کرنے کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ ہمیں افغانستان میں بڑھتے ہوئے حملوں پرسخت تشویش ہے۔ ہم اس نوعیت کے بزدلانہ حملوں کے خاتمے اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر زور دیتے ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG