Accessibility links

Breaking News

سوئیڈن اورفن لینڈ کی نیٹو میں رکنیت کے لیے اہم اقدام


فائل فوٹو

روس کی یوکرین کے خلاف بلا اشتعال، بے رحم جنگ کے ردِعمل میں، فن لینڈ اورسوئیڈن نے 18 مئی کو نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دی۔ یہ دونوں ممالک کا ایک بڑا قدم تھا جسے معمولی نہیں سمجھا گیا۔

فن لینڈ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سے عسکری طور پرغیروابستہ ملک رہا۔ سوئیڈن کی عدم وابستگی کی تاریخ دو صدیوں سے زیادہ پرانی ہے۔

دونوں ممالک کا یہ مؤقف ان کے شہریوں کی ترجیحات کی عکاسی کرتا تھا۔ مگر یہ نقطۂ نظر روس کے 24 فروری کو یوکرین پر بھرپور حملے کے نتیجے میں بدل گیا۔ مئی کے وسط تک، فن لینڈ اور سوئیڈن کی بھاری اکثریت نے یہ طے کیا کہ ان دونوں ملکوں کواپنی حفاظت کی خاطرنیٹو کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے۔

آپس میں مشاورت کرنے کے بعد، نیٹواتحادیوں نے رکنیت کے لیے سکینڈے نیویا کے ان دونوں ممالک کی درخواستوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں صدرجو بائیڈن کے اس بیان سے اتفاق کیا کہ "بلند شمال میں نیٹو کے دو نئے ممبران کا ہونا ہمارے اتحادیوں کی سلامتی میں اضافہ کرے گا اوریکساں طور پریہ ہمارے سیکیورٹی تعاون کومزید مستحکم کرے گا۔"

29 جون میں نیٹو نے اتحاد میں شامل ہونے کے لیے فن لینڈ اور سوئیڈن کو رسمی دعوت دی اور پانچ جولائی کو نیٹو کے سفیروں نے فن لینڈ اور سوئیڈن کے لیے الحاق کے پروٹوکول پر دستخط کیے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے کہا کہ"یہ واقعی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ فن لینڈ کے لیے سوئیڈن کے لیے، نیٹو کے لیے، اورہماری مشترکہ سلامتی کے لیے۔

اب ان دستاویزات کی توثیق نیٹو کے ہررکن ملک کی اپنی قانونی ضروریات کے مطابق کی جائے گی جو عام طور پرقانون ساز اداروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس وقت یہ عمل جاری ہے، اس کا آغاز کینیڈا اور ڈنمارک سے ہوا ہے جو پروٹوکول کی توثیق کرنے والے پہلے نیٹو اتحادی ہوں گے۔

سوئیڈن اور فن لینڈ کی نیٹو کی رکنیت کی درخواست کو امریکہ کی کانگریس میں مضبوط دو جماعتی حمایت حاصل ہے۔

صدر جو بائیڈن نے کہا کہ "امریکہ ان کی رکنیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ فن لینڈ اورسوئیڈن مضبوط جمہوریتیں ہیں جن کی فوجیں اعلیٰ صلاحیت کی حامل ہیں۔

ان کی رکنیت نیٹو کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط کرے گی اورپورے بین البحراوقیانوس اتحاد کو فائدہ پہنچائے گی۔ میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ، اپنے اتحادیوں اورکانگریس کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہم ان کا اپنے اتحاد میں جلد خیرمقدم کر سکیں،" صدر بائیڈن نے کہاکہ "ہمارا اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، زیادہ متحد اور پرعزم ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG