Accessibility links

Breaking News

نکاراگوا میں منصفانہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں


فائل فوٹو

نکاراگوا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے تابوت میں کیل ٹھونک دی۔ چھ اگست کو نکاراگوا کی سپریم انتخابی کونسل نے حزبِ مخالف کی پارٹی سٹیزن فار فریڈم کو سات نومبر کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ حیرت کی بات اس لیے نہیں ہے کہ نکاراگوا کے بارے میں انسانی حقوق سے متعلق محکمۂ خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ صدر ڈینئل اورٹیگا کے 'سیندانیستا نیشنل لبریشن فرنٹ' کا انتظامیہ، قانون سازی، عدلیہ اور انتخابی معاملات پر مکمل کنٹرول ہے۔

وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نکاراگوا میں ایک آخری حقیقی اپوزیشن جماعت پر پابندی سے اورٹیگا اور ان کی اہلیہ یعنی نائب صدر روزاریو مریلو کی اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ حزبِ مخالف کی جماعت کو نااہل قرار دیے جانے کی کارروائی سے پہلے سات صدارتی امیدواروں اور حزبِ مخالف کی 24 شخصیات، انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں، اہم کاروباری لوگوں، طلبہ اور این جی اوز کے کارگزاروں کو گزشتہ دو مہینوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر اورٹیگا چوتھی میعاد کے لیے بھی اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں اور انہوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ راستے میں کسی رکاوٹ کو بھی نہیں آنے دیا جائے گا جس میں یقیناً جمہوری طریقۂ کار، ادارے یا ان کی وکالت کرنے والے شامل ہیں۔ وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ نکاراگوا میں انتخابات اور ان کے حتمی نتائج کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہی ہے۔

نکاراگوا میں جبرو استبداد کی لہر کے ردِ عمل میں، جن میں جمہوریت کو نقصان پہنچانا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں، نو جون کو امریکہ نے اورٹیگا ۔ مریلو حکومت کے چار ارکان پر تعزیرات عائد کر دیں۔ دس جولائی کو امریکہ نے نکاراگوا کے 100 قانون سازوں، ججوں، اور سرکاری وکیلوں اور ان کے خاندانوں کے بعض ارکان کے لیے ویزے کی پابندیاں بھی لگا دیں۔

چھ اگست کو امریکہ نے نکاراگوا کی قومی اسمبلی کے نمائندوں کے مزید 50 قریبی اہلِ خانہ اور نکاراگوا کے سرکاری وکیلوں اور ججوں کے لیے بھی ویزے کی پابندیاں نافذ کر دیں۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق جو کوئی بھی نکاراگوا میں آزادانہ اور منصٖفانہ انتخابات پر قدغن لگائے جانے سے منفعت حاصل کر رہا ہو گا اسے امریکہ میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔

اپنے بیان میں وزیرِ خارجہ بلنکن نے اس جانب توجہ دلائی کہ اورٹیگا ۔ مریلو حکومت، بین الامریکی جمہوری میثاق، اور اپنے رہنماؤں کے آزادانہ انتخاب سے متعلق نکاراگوا کے عوام کے حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔

ہم دوسرے جمہوری ملکوں کے ساتھ قریبی تعاون سے بدستور کام کرتے رہیں گے تاکہ ان اہم معاملات کا سفارتی اور اقتصادی طور پر جواب دیا جا سکے جن سے ایک نمائندہ حکومت اور معاشی خوش حالی کے لیے نکاراگوا کے عوام اپنی تمناؤں سے مزید محرومی کا شکار نظر آتے ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

See comments

XS
SM
MD
LG