Accessibility links

Breaking News

برما کی حکومت کوپانچ نکاتی اتفاقِ رائے پرعمل درآمد کرنا چاہیے


فائل فوٹو

برما کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے قومی انتخابات میں بھاری اکثریت سے نومبر 2020 کو انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ تین ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد برمی فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور ملک کے رہنماؤں بشمول ریاستی کونسلر آنگ سوچی اور صدر ون مینت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی جماعت کے اراکین کو حراست میں لے لیا۔

نو منتخب پارلیمنٹ اپنے ابتدائی اجلاس کی تیاری کر رہی تھی، فوج نے یکم فروری 2021 کو بغاوت کا آغاز کر دیا۔

فوجی حکومت نے ملک بھرمیں احتجاج کودبانے کے لیے بے دریغ طاقت کا استعمال کیا۔ سیاسی قیدیوں کی مدد کے لیے غیرسرکاری تنظیم "اسسٹنس ایسوسی ایشن" کے مطابق، برمی سیکیورٹی فورسز نے دو ہزارسے زیادہ افراد کو ہلاک کیا اور14 ہزارسے زیادہ کو بے دریغ گرفتار کیا۔ فوج نے نسلی اقلیتی علاقوں میں بھی مکروہ کارروائیوں کو وسعت دی جس سے ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔

خونریزی کو روکنے کی کوشش میں، نو دیگر آسیان ممالک کے رہنماؤں نے برما کے فوجی کمانڈر انچیف جنرل من آنگ لائینگ سے ملاقات کی۔

انہوں نے ایک پانچ نکاتی فارمولے پر اتفاق کیا جس کے ذریعے برما کی فوجی حکومت کو برما میں تشدد کو ختم کرنا تھا۔ ان میں شامل چند خصوصی نکات یہ تھے تمام جماعتوں کے درمیان بات چیت کا انعقاد؛ خصوصی ایلچی کی تقرری کو قبول کرنا، آسیان کی طرف سے انسانی امداد کو قبول کرنا اور خصوصی ایلچی کو تمام فریقوں سے ملنے کی اجازت دینا۔

وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ "بدقسمتی سے، معاہدے کے باوجود کچھ بھی نہیں بدلا کیونکہ فوجی حکومت اپنے وعدوں کو برقرار رکھنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ "بدقسمتی سے محتاط طور یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے کوئی مثبت پیش رفت نہیں دیکھی۔"

انہوں نے کہا کہ" ہم برمی لوگوں پر ڈھائے جانے والے جبرکو دیکھ رہے ہیں۔ ہم حکومت کی طرف سے ان پر ہونے والے تشدد کو دیکھتے رہتے ہیں۔ ہم عملی طور پر پوری حزبِ مخالف کو جیل یا جلاوطنی میں زندگی گزارتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم ایک خوفناک انسانی صورت حال دیکھ رہے ہیں، جواس حقیقت کے بعد اور بھی شدید ہو گئی کہ حکومت عوام کے لیے ضروری چیزیں فراہم نہیں کر رہی ہے۔"

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ہم ان طریقوں کی تلاش جاری رکھیں گے جن سے ہم اور دیگر ممالک برما میں حکومت کو جمہوری راستے پر واپس جانے کے لیے مؤثر طریقے سے فوجی حکومت پر دباؤ ڈال سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آسیان کی طرف سے تیار کردہ پانچ نکاتی اتفاق رائے پر حکومت کی پابندی کے لیے علاقائی حمایت اہم ہے۔ تمام آسیان ممالک کو تشدد کے فوری خاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور برما کے جمہوری راستے کی بحالی کا مطالبہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ بلنکن نے کہا کہ تمام ممالک کو واضح طوربرمی حکومت کے جاری جبر اور بربریت پر بات کرتے رہنا چاہیے۔ ہم پربرما کے لوگوں کی طرف سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم برما کی حکومت کوجوابدہ بنائیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG