Accessibility links

Breaking News

افریقہ میں دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ


فائل فوٹو

وائٹ ہاؤس کی ہوم لینڈ سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر لِز شیروڈ-رینڈل کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنا دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے امریکہ کی اولین ترجیح رہا ہے۔ لیکن گزشتہ برسوں کے دوران یہ خطرہ بتدریج بڑھا ہے اور اس نے نئی شکل اختیار کی ہے۔ یہ نظریاتی طور پر زیادہ متنوع ہو گیا ہے اور جغرافیائی طور پر زیادہ پھیل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی دہشت گردی کے منظر نامے میں یہ ارتقا دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ افریقہ میں ہے۔ جہاں القاعدہ، داعش اور اس کی شاخوں سے وابستہ افراد لاکھوں مصیب زدہ لوگوں سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شیروڈرینڈل نے کہا کہ دہشت گرد پورے براعظم میں شہریوں پر ظلم ڈھاتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افریقہ میں جنگجو اسلام پسند گروپوں کی طرف سے پچھلی دہائی کے دوران تشدد میں 300 فی صد اضافہ ہوا ہے اور اس میں سے 95 فی صد اضافہ مغربی ساحل اور صومالیہ میں مرکوز ہے۔ اس تشددمیں صرف اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکہ تین اہم کام کر رہا ہے۔ "سب سے پہلے، ہم گورننس، ترقی اور سفارت کاری میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘‘۔

ان کے بقول امریکہ ایک مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، ایک جو بنیاد پرستی کو حربے کے طور پر استعمال کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے ہے جو مؤثر حکمرانی کو مدد فراہم کرتی ہے۔ جو یہ واضح کرتی ہے کہ استحکام اور سیکیورٹی مواقع اور خوشحالی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹرشیر ووڈ رینڈل نے کہا کہ’’ دوسرے ہم اپنے افریقی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو گہرا کر رہے ہیں اور انہیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھنے اور قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے شراکت داروں میں قانون نافذ کرنے والے مقامی ادارے، فوجی اہلکار، سرکاری ملازمین اور علاقائی ادارے شامل ہیں۔ جیسے افریقی یونین اور اس کی علاقائی اقتصادی کمیونٹیز ہیں۔ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ افریقی برِاعظم میں قیادت کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اور ہم انہیں اس قابل بنائیں گے کہ وہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوششیں کر سکیں جس سے مزید پائیدار نتائج حاصل ہو سکیں گے۔

تیسرے امریکہ اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری کی اجتماعی قوت کو بڑھا کر اس معاملے میں استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ بنیادی طور پر ان مشترکہ کوششوں کی بنیاد جمہوریت پر ہونی چاہیے اور اگر انہیں طویل مدت کے لیے کامیاب ہونا ہے تو ان کی تعمیر قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام پر ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر شیروڈرینڈل نے کہا کہ دہشت گردی کو جنم دینے والے حالات پیچیدہ ہیں اور مجرم اختراع پسند اور بے رحم ہیں۔ "لیکن گورننس، ترقی اور سفارت کاری میں سرمایہ کاری کرکے، مقامی شراکت داروں کو بااختیار بنا کر اور دو طرفہ اور کثیر جہتی دونوں طرح سے مل کر کام کرکے، ہم افریقہ میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئےخطرات کا زیادہ مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG