Accessibility links

Breaking News

حزب اللہ کو جواب دہ ٹھہرایا جائے


فائل فوٹو

امریکہ نے دنیا بھر کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ حزب اللہ پر پابندیاں عائد کریں اور اس کے خلاف دیگرتادیبی کارروائیاں کریں۔

یہ مطالبہ حزب اللہ کے دو گھناؤنے حملوں کی برسی پرکیا گیا ہے۔ پہلا، 18 جولائی 1994 کو بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی سینٹر پر بمباری تھا۔ دوسرا ٹھیک 18 سال بعد بلغاریہ میں اسرائیلی سیاحوں کی بس پربم حملہ تھا۔

ارجنٹائن میں یہودی کمیونٹی سینٹر پر حملے میں 85 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ بلغاریہ میں بلغاریہ کے بس ڈرائیور سمیت 5 اسرائیلی ہلاک اور 45 اسرائیلی نوجوان زخمی ہوگئے۔

دونوں حملے ایرانی حکام کے تعاون سے کیے گئے۔ برسی کے موقع پر ایک بیان میں، محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ نصف صدی سے زائد عرصے میں یہ مہلک کی واضح مثال تھی۔

نہوں نے لکھا کہ اعلیٰ سطحی ایرانی حکومتی اہلکاراس حملے میں براہ راست ملوث تھے اورحزب اللہ نے اسے ایرانی حکومت کی ہدایت پر انجام دیا۔ اگرچہ کسی ذمہ دار کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، امریکہ کا خیال ہے کہ تمام ارجنٹائن ،اس حقیراور بزدلانہ فعل کے ذمہ داروں کے جواب دہ ہونے کا حق رکھتا ہے۔

ڈیبرا لیپس ٹاڈ یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے اوراس کی نگرانی کی امریکی خصوصی ایلچی ہیں، وہ حملے کی برسی کے موقع پرارجنٹائن میں تھیں، انہوں نے بھی ان لوگوں کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا جواس دن کے ہولناک اقدامات کے لیے جواب دہی چاہتے ہیں۔

بلغاریہ میں، حزب اللہ کے دو کارندوں کو بس بم دھماکے کے سلسلے میں ان کی غیرحاضری میں سزا سنائی گئی تھی، چونکہ ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں ہے، اس لیے ابھی تک انصاف کے مطابق سزا پرعمل درآمد نہیں کیا جا سکا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان پرائس نے کہا کہ "امریکہ حزب اللہ اور ایران کے پراگندہ اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ایران نےحزب اللہ کو فنڈنگ، ٹریننگ، ہتھیار اور دیگر مدد فراہم کی تاکہ وہ اس طرح کے پیچیدہ اور گھناؤنے دہشت گرد حملوں کا ارتکاب کرے۔

انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہماری حمایت کے ساتھ، یورپ، جنوبی امریکہ، وسطی امریکہ، اوربحرالکاہل کے ایک درجن سے زیادہ ممالک نے حزب اللہ کے خلاف حکومتی سطح پر امتناعی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ہم مزید ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے ہی اقدامات کریں، جو اس گروپ اور تہران میں اس کے حامیوں کے لیے دنیا بھر میں امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنا مشکل بنا دے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG