Accessibility links

Breaking News

مدورو کو حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات پھر سے شروع کرنے چاہئیں


فائل فوٹو

وینزویلا کی مدورو حکومت نے اپوزیشن کے متحدہ محاذ سے مذاکرات کے تازہ ترین دور کا بائیکاٹ کر دیا، جو میکسیکو سٹی میں 17 سے 20 اکتوبر تک ہونے والے تھے۔ مکالمے کے اس عمل سے جس کا آغاز 3 ستمبر کی بات چیت سے ہوا تھا، اس بات کی امید پیدا ہوئی تھی کہ وینزویلا جمہوری راستے پر واپس آ سکے گا۔

صدر مدورو نے مذاکرات کے تازہ ترین دور میں ایک وفد بھیجنے سے اس وقت انکار کر دیا جب ایک قریبی اتحادی اور غیر قانونی طور پر مالی مدد کرنے والے ایلکس ساب کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا جہاں اس پر 2019 میں منی لانڈرنگ اور غیر ملکی بدعنوانی سے متعلق کارروائیوں کے لیے امریکی ایکٹ، ایف سی پی اے، کی خلاف ورزی پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

مذاکرات کے بائیکاٹ سے متعلق مدورو کے فیصلے کے بارے میں ایک پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اسے ایک انتہائی بدقسمتی قرار دیا۔ مسٹر بلنکن نے کہا کہ بدقسمتی سے اس سے اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ مسٹر مدورو وینزویلا کے عوام کے مفادات پر ذاتی مفادات اور وینزویلا کے تمام لوگوں کے مفادات کو فردِ واحد کے مفاد پر ترجیج دیتے ہیں۔

انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ایلکس ساب کے خلاف تعزیری مقدمہ تقریباً ایک عشرے سے چل رہا ہے اور اس سے امریکی عدالت کی غیرجانب دارانہ حیثیت اجاگر ہوتی ہے جو سیاسی سطح پر رونما ہونے والے واقعے سے جداگانہ طور پر کام کرتی ہے مثلاً مدورو حکومت اور اپوزیشن کے متحدہ محاذ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا معاملہ۔

ایک الگ پریس بریفنگ میں سٹگو -6 اور وینزویلا مذاکرات کے مدورو کی جانب سے بائیکاٹ کے بارے میں محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ چھ عہدے داروں کو مدورو سیاسی پیادے کے طور پر استعمال کر رہے تھے اور وہ یک طرفہ حراست کی مذموم کارروائیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ پرائس نے مدورو پر زور دیا کہ انہیں فوراً اور غیر مشروط طور پر رہا کر دیا جائے۔

مسٹر پرائس نے واضح طور پر کہا کہ امریکہ متحدہ محاذ اور مدورو حکومت کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتا ہے اور ہم اب بھی اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ان سے پرامن طور پر جمہوریت کی بحالی ہو سکے گی، جس کی وینزویلا کے لوگ زبردست خواہش رکھتے ہیں اور اس کے مستحق ہیں۔

ایک حالیہ دورے میں مغربی کرۂ ارض کے امور کے معاون وزیرِ خارجہ برائن نکولس نے کہا کہ اگر مدورو کی حکومت اپنے عوام کے ایک بہتر مستقبل کی خواہش مند ہے اور مذاکرات کی میز پر زیر بحث انسانی مسائل پر توجہ دینا چاہتی ہے جن کا حکومت نے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو مدورو حکومت اس کا مظاہرہ مذاکرات کی میز پر واپس آ کر کر سکتی ہے۔

متحدہ محاذ ان سے ملنے کے لیے تیار ہے اور اگر وہ اس معاملے میں پیش رفت کرتے ہیں تو امریکہ اس کا خیرمقدم کرے گا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG