Accessibility links

Breaking News

جنگ زدہ علاقوں میں عام شہریوں کا تحفظ


فائل فوٹو

افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کبھی کوئی تنازع چھڑتا ہے تو سب سے زیادہ شہری متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور سے شہری علاقوں میں ہونے والے تشدد کے موقع پر یہ بات زیادہ صادق آتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق پوری دنیا میں شہروں اور قصبوں کے اندر ہونے والی لڑائیوں میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

شہری علاقوں میں اکثراوقات فوجی دستے شہری آبادیوں کے قریب مورچے لگاتے ہیں اور پورے شہر کو گھیر لیتے ہیں۔ اس طرح معصوم شہری اوران کے زیرِاستعمال انفرا سٹرکچربراہ راست آرپارچلنے والی گولیوں کی زد میں آ جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیرلنڈا تھامس گرین فیلڈ کہتی ہیں کہ "دھماکہ خیز ہتھیارباآسانی تباہی پھیلاتے ہیں اورشہریوں کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ" بعض مرتبہ جنگجو عام شہریوں کو انسانی ڈھال بنا لیتے ہیں۔ اس کےعلاوہ یہ جان بوجھ کرشہریوں کی آبادیوں کے نزدیک اپنے فوجی سازوسامان نصب کرتے ہیں اوربعض اوقات یہ ایسے مقامات تلاش کرتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں کا قیام ہو۔

سفیرتھامس گرین فیلڈ نے سوال کیا کہ ایسے مظالم کوروکنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ " پہلا قدم تو یہ ہونا چاہیے کہ مسلح تنازع میں شریک فریق قابلِ عمل بین الاقوامی قوانین کا یقینی طور پر احترام کریں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثراوقات حملہ آورغیرریاستی مسلح گروپ ہوتے ہیں۔ ان کوبھی ان قوانین کی پابندی کرنا چاہیے اور تنازعے میں شامل تمام فریقوں کو جوابدہ ٹھہرانا بھی لازم ہے"۔

سفیر گرین دیلڈ نے مزید کہا کہ "ملکوں کواعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے جوابدہی کے بہتراقدامات پرعمل درامد کرنا چاہیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں جائزہ لے کر تفتیش کرنا چاہیے، شہریوں کو اگر گزند پہنچے تواس کے بارے میں علم رکھیں کہ کب ایسا ہوا اورجن شہریوں کو نقصان پہنچا ہے ، ان کی مدد کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔ ہم سب کو مل کران اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دینا ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک مثال یہ ہے کہ امریکہ آئرلینڈ کی قیادت میں بہت سے ملکوں کے ساتھ مل کر گنجان آبادی والے علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں کے بارے ایک سیاسی اعلامیے پرکام کر رہا ہے "۔

امریکہ خود ان معاملات پر اپنی کوششوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع آسٹن نے حال ہی میں اعلان کیا کہ محکمۂ دفاع شہریوں کوضرر پہنچانے کے خاتمے اور اس سلسلے میں ردِعمل ظاہر کرنے کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کر رہا ہے۔

سفیر تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ "بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کو قائم رکھنے کے لیے ہمارے دعوے اتنے ہی مستحکم ہیں جتنے کہ اس کے نتائج، ہماری یہ ذمّہ داری ہے کہ ہم عالمی انسانی قوانین کی پاسداری کریں اورشہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں بلند و بانگ الفاظ کوعملی جامہ پہنائیں۔

دنیا بھر کے شہری ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، ہم کو ان کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ ان کی امیدوں اور خواب کی تعبیر بننا ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہمارے اختیار میں جو کچھ ہے، وہ کرنا ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG