Accessibility links

Breaking News

ہر کسی کے لیے تعلیم کا فروغ


فائل فوٹو

بین الاقوامی ترقی کے لیے امریکی ادارے کی منتظم سمنتھا پاور نے ایک حالیہ تقریب میں کہا کہ تعلیم کے آفاقی حق کی تعمیل، خاص کر لڑکیوں کی تعلیم، بہترین منعفت بخش سرمایہ کاری ہے۔

ایک حالیہ مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ لڑکیوں کے حقوق اور تعلیم میں خرچ کیے جانے والے ہر ایک ڈالر کا ترقی پذیر ملکوں کو دو ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ سال بھر کی اضافی تعلیم سے ایک عورت کی آمدن میں 10 سے 20 فی صد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

مزید برآں اسکول میں ایک اور اضافی سال لگانے سے بلوغت کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کسی بچے کے تنازع میں ملوث ہونے کا خطرہ 20 فی صد تک کم ہو جاتا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 1970 کے بعد سے دنیا بھر میں بچوں کی اموات میں نصف سے زیادہ کمی کا تعلق بالغ خواتین میں تعلیم کو وسعت دینے سے ہے۔

منتظم پاور نے اس جانب توجہ دلائی کہ بدقسمتی سے کوویڈ نائنٹین کی عالمگیر وبا نے پوری دنیا میں تعلیمی نظٓم کو برباد کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں یو ایس ایڈ نے 50 سے زیادہ ملکوں میں تعلیم کے پروگرام کو اپنایا ہے تاکہ دو کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ طلبہ تک رسائی حاصل کی جا سکے جن کی تعلیم کو کوویڈ نائنٹین کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔

اس کے باوجود بہت سی لڑکیاں، پناہ گزین، اور اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد اب بھی اسکول تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یو ایس ایڈ نے تعلیم کے ایک پروگرام کے لیے تین کروڑ 70 لاکھ ڈالر فنڈنگ کی خاطر نئے وعدے کا اعلان کیا ہے۔ جس میں محکمۂ خارجہ کے اندر آبادی، پناہ گزینوں اور ترک وطن کے بیورو کی وساطت سے ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز شامل ہیں۔

تعلیم کے لیے انتظار نہیں کیا جاسکتا نامی ادارہ تعلیم کے حوالے سے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے وسطی اور شمالی مالی جیسے تنازعات کے شکار علاقوں میں تعلیم تک رسائی کو وسعت دی جا سکتی ہے۔ ان علاقوں میں کوویڈ کی عالمگیر وبا سے پہلے بھی اسکول بند ہو گئے تھے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے ریڈیو کی تقسیم شامل ہے تاکہ طلبہ کلاس روم کے باہر بھی تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔

افغانستان، یمن اور ایتھوپیا جیسے جنگ سے تباہ شدہ اور طویل بحران کے شکار علاقوں میں، یہ ادارہ لاکھوں پسماندہ بچوں اور نوجوانوں کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد دے رہا ہے۔ منتظم پاور نے کہا کہ 2016 میں یہ ادارہ جب سے قائم ہوا ہے، امریکہ فخر کے ساتھ اس کی مدد کرتا رہا ہے۔

اُن کے بقول ہم جاری تعاون کے منتظر ہیں۔ تاکہ تعلیم تک رسائی کو بڑھایا جا سکے، اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو بہتر شکل دی جائے اور نہایت کم مراعات یافتہ طلبہ خاص کر لڑکیوں، پناہ گزینوں، اندرون ملک بے گھر ہونے والی برادریوں، صنفی اور جنسی اقلیتوں اور معذور بچوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

جب معیاری تعلیم تک رسائی یکساں ہوجائے تو اس کے نتائج بہت واضح ہیں۔ اس سے زیادہ اقتصادی ترقی، صحت کی بہتر سہولتیں، جمہوری نظام کی مضبوطی اور زیادہ پرامن اور مستحکم معاشرے جنم لیتے ہیں اور صحت مند اور زیادہ کامیاب بچے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ منتظم پاور نے کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دنیا میں ہنرمند اور باصلاحیت کوئی نسل بھی پیچھے نہ رہ جائے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG