Accessibility links

Breaking News

شام مہاجرین کی واپسی کا خواہش مند، روس کا اتفاق


فائل فوٹو

تقریباً دس سال سے شام اپنے عوام کے ساتھ ہر ممکن طور پر بدترین طریقوں سے زیادتیاں کرتا رہا ہے۔ بشار الاسد کی قیادت میں حکومت نے پرامن مظاہرین پر ٹینکوں اور بندوقوں سے حملے کیے ہیں۔ اس نے پیٹرول اور نہایت دھماکہ خیز مواد سے بھرے ہوئے بیرل بم اپنی آبادی پر گرائے ہیں اور پوری کی پوری آبادیوں اور دیہات کا زہریلی گیس سے دم گھونٹ دیا ہے۔ شام کے شہریوں کی ایذا رسانی کی گئی ہے، انھیں مفلوج کردیا گیا ہے اور فاقوں، کیمیکل اور آگ سے جلا کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

شام میں شہری محض گزشتہ جنگ کی وجہ سے ہلاک یا زخمی نہیں ہوئے بلکہ اب بھی وہ نشانے پر ہیں، اس کے نتیجے میں جنگ سے پہلے کی دو کروڑ تیس لاکھ کی آبادی میں سے تقریباً پانچ لاکھ ہلاک ہوچکے ہیں، 65 لاکھ لوگ اندرونِ ملک بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ اندازاً 56 لاکھ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن اب اسد جو ان مظالم کے سرغنہ رہے ہیں، پناہ گزینوں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ شام واپس آجائیں۔ اس مطالبے کے ان کے حامی اور سہولت کار روسی صدر ولادی میر پیوٹن ہم نوائی کر رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کے بارے میں ایک حالیہ کانفرنس میں جو دمشق میں شام اور روس کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوئی، اسد اور پوٹن نے اصرار کیا کہ خانہ جنگی ختم ہوگئی ہے اور یہ کہ بیشتر طور پر تباہ شدہ اس ملک کے بہت سے حصوں میں امن لوٹ آیا ہے۔ ساتھ ہی روس کا اصرار ہے کہ جنگ سے برباد ہونے والے ملک میں لازم ہے کہ شامی پناہ گزینوں کی واپسی سے قبل تعمیرِ نو کا کام کیا جائے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ پناہ گزین صرف اسی صورت میں اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اگر مغربی ممالک شام کی تعمیرِ نو کے لیے پیسے دینے پر آمادہ ہوں۔

یہ روس کی جانب سے اس بات کی کھلی کوشش ہے کہ اپنی کمپنیوں کو تعمیرِ نو سے متعلق منافع بخش ٹھیکوں کے حصول میں مدد دے کر مالی فوائد کا اہتمام کیا جائے۔

پناہ گزینوں کو اسد کے وعدوں پر اعتبار نہیں ہے۔ مغربی ممالک بھی اس پر اعتبار نہیں کرتے اور ان کا اصرار ہے کہ تعمیرِ نو کے فنڈز صرف اسی صورت میں مہیا کیے جائیں گے جب تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا، تمام شامیوں کے تحفظ کی ضمانت ہوگی اور شام کے سیاسی عمل کو جائز حیثیت حاصل ہوجائے گی۔

محکمۂ خارجہ کے نائب ترجمان کیل براؤن نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اسد حکومت روس کی پشت پناہی سے لاکھوں بے سہارا پناہ گزینوں کو سیاسی مہروں کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے تاکہ اس بات کا جھوٹا دعویٰ کیا جاسکے کہ شامی تنازع ختم ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسد حکومت خود اپنے پانچ لاکھ باشندوں کی ہلاکت، لاتعداد اسپتالوں پر بمباری اور لاکھوں شامی شہریوں کو انسانی امداد سے محروم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ یہ کارروائیاں کسی ایسی حکومت پر اس بات کا تعین کرنے کے لیے جواز فراہم نہیں کرتیں کہ پناہ گزین بحفاظت اپنے وطن کب واپس لوٹ سکتے ہیں، اور نہ ہی اسد کو اس کا اختیار ہے کہ وہ تعمیرِ نو سے متعلق بین الااقوامی فنڈ کے بارے میں ہدایات جاری کرسکے۔

امریکہ نے بدستور شام کے لوگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراد داد 2254 سے وابستگی اختیار کر رکھی ہے، جو شامی تنازعے کے سیاسی حل کا واحد راستہ ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

See comments

XS
SM
MD
LG