Accessibility links

Breaking News

افغانستان میں طالبان کی بد سلوکیاں


فائل فوٹو

ہیومن رائٹس واچ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پندرہ اگست کو سقوطِ کابل کے بعد سے طالبان اراکین نے عام معافی کے اعلان کے باوجود ایک سو سے زیادہ سابق پولیس اورانٹیلی جنس افسروں کو یا تو مختصر سماعت کے بعد پھانسی پر چڑھا دیا یا انہیں زبردستی لاپتا کر دیا۔

طالبان کی بد سلوکی کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ اور دوسروں کے جمع کردہ دستاویزی ثبوت پر 15 دسمبر کو امریکہ کے علاوہ 27 دیگر ملکوں اور خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کے اعلیٰ نمائندوں نے ایک بیان پر دستخط کیے جس میں اس معاملے پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے خاص طور سے افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے 47 سابق اہل کاروں کی ہلاکت یا گمشدگی کے بارے میں دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں جنہوں نے 15 اگست سے 31 اکتوبر کے درمیان یا تو ہتھیار ڈال دیے تھے یا انہیں طالبان فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ نے صرف غزنی، ہلمند، قندھاراور قندوز صوبوں میں سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں۔

طالبان نے سرکاری ملازمتوں کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد گرفتاری اور پھانسی کے لیے لوگوں کی شناخت کی۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ستمبر کے اواخر میں قندھار شہر میں طالبان فورسز نے سرکاری انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق اہل کار باز محمد کے گھر میں گھس کر انہیں گرفتار کیا بعد میں ان کے رشتہ داروں کو باز محمد کی لاش ملی۔

ہیومن رائٹس واچ کی ایسوسی ایٹ ایشیا ڈائریکٹر پیٹریشیا گراس مین نے کہا کہ طالبان قیادت نے عام معافی کا وعدہ کیا تھا مگر افغان سیکیورٹی فورسز کے سابق اراکین کو سرسری سماعت کے بعد پھانسیاں دینے یا ان کو جبراً لاپتا کر نے سے اس کے مقامی کمانڈرز کو روکا نہیں گیا۔ مزید ہلاکتوں اور گمشدگیوں کو روکنے، ذمّہ داروں کو جواب دہ بنانے اور متاثرین کے خاندانوں کو معاوضہ دینے کا فرض طالبان پر عائد ہوتا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مبینہ اقدامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور طالبان کی عام معافی کے اعلان کے سراسر برخلاف ہیں۔ ہم طالبان پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کے اراکین اور سابق سرکاری ملازمین کے سلسلے میں اعلان کردہ عام معافی کو مؤثر طور پر نافذ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اُس پر پورے ملک میں بلا تفریق عمل کیا جائے۔

مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کیس رپورٹ ہوئے ہیں، ان کے بارے میں فوری طور پر شفاف طریقے سے تفتیش کی جائے اس کے ذمّہ داروں کی جواب دہی کی جائے اور ان اقدامات کی واضح تشریح کی جائے تاکہ مزید ہلاکتوں اور گمشدگی کے واقعات کا فوری انسداد ہو سکے۔ ہم طالبان کے اقدامات کی روشنی میں ان کو جانچتے رہیں گے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG