Accessibility links

Breaking News

مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کے کریک ڈاؤن پرامریکہ اوراقوامِ متحدہ کی تشویش


فائل فوٹو


اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے گیارہ ماہرین نے پرامن مظاہرین کے خلاف ایرانی حکومت کے پرتشدد کریک ڈاؤن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "اساتذہ، مزدوروں کے حقوق کا دفاع کرنے والوں، یونین رہنماؤں، وکلاء، انسانی حقوق کے علم برداروں اور سول سوسائٹی کے دیگرسر گرم کارکنوں کی مبینہ طور پربلا جوازگرفتاریوں کے حالیہ اضافے پرہمیں تشویش ہے۔" "سول سوسائٹی اور آزاد تنظیموں کےاجتماع اور اپنے جائز کام اور سرگرمیاں انجام دینے کی گنجائش ناممکن حد تک تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ایران بھرمیں مظاہرے جاری ہیں۔ معاشرے کے مختلف طبقے بہت سے مسائل پراحتجاج کر رہے ہیں جن میں کم تنخواہیں، کام کے خراب حالات، تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، سرکاری بدعنوانی اور سیاسی جبرشامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے نوٹ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے "طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال" کے ساتھ ان مظاہروں کا جواب دیا ہے۔

مئی کے آغاز سے اب تک کم از کم پانچ مظاہرین مارے جا چکے ہیں اور بہت سے لوگوں کو مارا پیٹا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور حکومت نے متعدد شہروں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔

امریکی سینیٹ کے سامنےشہادت دیتے ہوئے ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ مالے نے کہا کہ ایران میں جو مظاہرے ہم اب دیکھ رہے ہیں وہ حکومت کی بدعنوانی اور بدانتظامی ناپنے کا ایک پیمانہ ہے اوران مظاہروں کے خلاف وحشیانہ ردِعمل حکومت کے اخلاقی دیوالیہ پن کی یاد دہانی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے کام کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال پر ان کی تشویش "یقینی طور پر ہماری بھی تشویش ہے۔

ترجمان پرائس نے کہا کہ ہم پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں، ہم ایرانیوں کے انسانی حقوق کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ پُرامن طریقے سے جمع ہوں اور بغیر کسی خوف اور تشدد کے اظہار خیال کریں۔

ترجمان پرائس نے نوٹ کیا کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے ایرانیوں کے لیے ذاتی مواصلاتی سافٹ ویئر اور خدمات کے ایک وسیع رینج کی فراہمی کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ایران کے اندر معلومات کے آزادانہ بہاؤ کی حمایت اور سہولت فراہم کرنے کے لیے اضافی اقدامات کی نشاندہی کرنے کے لیے نجی شعبے اور محکمہ خزانہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔"

آج تک، امریکہ نے درجنوں ایرانی حکام اوراداروں پرپابندیاں عائد کی ہیں جو مظاہرین اور سول سوسائٹی کے کارکنوں اور تنظیموں کو دبانے میں ملوث رہے ہیں۔ ترجمان پرائس نے وعدہ کیا، "امریکہ ایران کے اندرہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے ایران کو جوابدہ ٹہرائے گا۔ ہم ایران کو ہر طرح کی مذموم سرگرمی کے لیے جوابدہ ٹھہراتے رہیں گے۔‘‘

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG