یوکرین میں تیزی سے بڑھتا ہوا انسانی بحران

فائل فوٹو


نائب وزیرِ خارجہ وینڈی شرمین نے کہا ہے کہ فروری میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سوچے سمجھے طور پر یوکرین پر بلا اشتعال، غیر منصفانہ اور ظالمانہ حملہ کیا ہے۔

انہون نے کہ ان چند ہفتوں میں روس نے یوکرین کے شہروں اور اس کے اہم انفرا سٹرکچر پر مسلسل بمباری کی ہے اور اس کی وجہ سے تیزی سے بڑھتا ہوا ایک ایسا انسانی بحران کھڑا ہو چکا ہے جسےحالیہ عشروں کے بدترین بحرانوں میں سے ایک کہا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف پانچ ہفتوں میں یوکرین کی ایک چوتھائی آبادی بے گھر ہوگئی، جس میں ملک کے بچّوں کی آدھی سے زیادہ تعداد شامل ہے۔ انہیں پانچ ہفتوں میں 40 لاکھ سے زیادہ یوکرینی باشندے اپنا ملک چھوڑ کر مہاجر بن چکے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے اب یہ انتباہ کیا ہے کہ انہیں تشویش ہے کہ یوکرین میں رہنے والی تقریباً 45 فی صد آبادی کے پاس کھانے کے لیے مناسب خوراک نہیں ہوگی۔ یہ اس ملک کی بات ہے جو دنیا کو خوراک فراہم کرنے والا ایک عظیم ملک تھا۔

یوکرین کے خلاف روسی جنگ کے انسانی اثرات کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ خارجہ وینڈی شرمین نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے عوام کو خوراک، پانی، پناہ گاہیں اور ادویات مہیا کریں اور یوکرین کے پڑوسی ملکوں کی مدد کریں جنہوں نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اس جنگ کی وجہ سے یوکرین یا دنیا میں کہیں اور بھی پہنچنے والے انسانی مصائب کا اپنے طور پر مداوا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وینڈی شرمین نے کہا کہ امریکہ یوکرین کے عوام، پڑوسی ملکوں میں بھاگ کر پناہ لینے والوں اور پوری دنیا میں بسنے والے ان لوگوں کے لیے جو پوٹن کی جنگ متاثر ہوئے ہیں اور جنہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے، انسانی ہمدردی کی امداد کے طور ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دینے کے لیے تیار ہے۔

نائب وزیرِ خارجہ شرمین نے کہا کہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جب تک پوٹن اپنی جنگ جاری رکھتا ہے، روسی فوجیں یوکرین کے شہروں اور امدادی قافلوں کا راستہ روکتی رہیں گی، محصور شہریوں کو باہر نکلنے کا محفوظ راستہ نہیں ملے گا، تب تک یہ انسانی بحران یوکرین میں، روسی عوام کے لیے اور دنیا میں چاروں طرف یہ شدید سے شدید تر ہوتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کے سلسلے میں بین الاقوامی قوانین پر روس کو عمل درآمد کرنا ہوگا جس میں اس لڑائی سے بچ نکلنے والوں اور انسانی ہمدردی کی امداد فراہم کرنے والوں کا تحفظ شامل ہے۔ ہم حقیقی معنوں میں توقع کرتے ہیں کہ صدر پوٹن جاری امن مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے مگر ہماری توجہ اس پر مرکوز رہے گی کہ روسی فوجیں کیا کررہی ہیں نہ کہ روس کیا کہتا ہے اور نہ یہ کہ پوٹن کیا کہتے ہیں۔

نائب وزیرِ خارجہ شرمین نے آخر میں اپنی تقریر میں یہ کہا کہ بالاخر اس انسانی تباہی کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی راستہ رہ گیا ہے، وہ یہ ہے کہ پائیدار جنگ بندی عمل میں لائی جائے،روسی افواج کا یوکرین کے علاقوں سے مکمل انخلا ہو اور وہ اس کے سرحدوں سے پرے ہٹ جائیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**