Accessibility links

Breaking News

ایران کی اخلاقی پولیس اوراعلیٰ سیکیورٹی اہلکاروں پرامریکی پابندیاں


فائل فوٹو


ایک نوجوان ایرانی خاتون مہسا امینی کی "افسوسناک اور سفاکانہ موت" کے بعد پرامن مظاہروں کو پرتشدد طور سے کچلنے کے عمل کے جواب میں وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس یا "گشت ارشاد" اورکئی اعلیٰ سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

بائیس سالہ مہسا امینی کوتہران میں مبینہ طور پر ڈھیلے طریقے سے حجاب پہننے پرگرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں وہ ایران کی نام نہاد اخلاقی پولیس کی حراست میں انتقال کرگئیں۔

اس موسم گرما میں ایران میں اخلاقی پولیس کی جانب سے سڑکوں پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ صدرابراہیم رئیسی نے 1979 میں انقلاب کے بعد نافذ کیے گئے قوانین کے سختی سے نفاذ کا حکم دیا تھا۔ اس میں یہ ضابطہ بھی شامل ہے جو خواتین کو اپنے بالوں کو ڈھانپنے اورلمبے، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے کا پابند بناتا ہے۔

امینی کی موت کے بعد پورے ایران میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔ ایرانی حکام نے ان کو زبردستی طاقت کے زور پر کچلا, جو اس وقت بھی جاری ہے۔

حکام نے مبینہ طور پردرجنوں مظاہرین کو ہلاک کر دیا ہے اور گزشتہ ہفتے ایرانی حکومت نے اپنے 8 کروڑ شہریوں میں سے زیادہ تر کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو منقطع کردیا تاکہ انہیں اورباقی دنیا کواس کے پرامن مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور پرتشدد واقعات کودیکھنے سے روکا جا سکے۔

ایک الگ بیان میں محکمۂ خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی اثاثہ جات کے کنٹرول کے دفتر کی طرف سے مقرر کردہ اہلکار ان تنظیموں کی نگرانی کرتے ہیں جنہوں نے پرامن احتجاج کو دبانے کے لیے اورایرانی سول سوسائٹی کے اراکین، سیاسی مخالفین، خواتین کے حقوق کے کارکنان اور بہائی برادری کے اراکین کے خلاف مستقل تشدد کو معمول بنا لیا ہے۔

سات نامزد اہلکاروں میں ایران کے وزیرانٹیلی جنس اورسیکیورٹی، ایران کی اخلاقی پولیس کے سربراہ اوراس کے تہران ڈویژن کے سربراہ شامل ہیں۔

بسیج کے ڈپٹی کمانڈر، ایران کی قانون نافذ کرنے والی فورسز کے ڈپٹی کمانڈر، چہارمحل اوربختیاری صوبے کے ایل ای ایف کمانڈراورایران کی زمینی افواج کے کمانڈر شامل ہیں۔

یہ تمام حکام خاص طورسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہے ہیں، جن میں قیدیوں کے خلاف تشدد اورمظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کا استعمال شامل ہے۔

وزیر خزانہ جینٹ ییلن نے مہسا امینی کی موت کو "ایرانی حکومت کی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ایک اور ظلم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا ہم اس غیرذمہ دارانہ عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اورایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد اور آزادئ اظہار اوراجتماع کے خلاف جاری پرتشدد کریک ڈاؤن بند کرے۔"

انہوں نے کہا کہ "آج کی کارروائی، بائیڈن-ہیرس انتظامیہ کے انسانی حقوق، اورایران اورعالمی سطح پر خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے واضح عزم کو ظاہر کرتی ہے۔"

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG