Accessibility links

Breaking News

یمن کے لیے ایک فیصلہ لمحہ


فائل فوٹو

چھ ماہ قبل اقوامِ متحدہ نے یمن میں متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی کی ثالثی کی تھی۔ آٹھ سال قبل شروع ہونے والے اس تنازعے کے بعد اس ہونے والی جنگ بندی وجہ سے ماحول نسبتاً طویل عرصے تک پر سکون رہا۔

ہلاکتوں میں 60 فی صد کمی واقع ہوئی۔ اس نے صنعا کے ہوائی اڈے سے تجارتی پروازوں کے ذریعے 29,000 سے زیادہ یمنیوں کو طبی علاج معالجہ اوربیرون ملک اپنے پیاروں کے ساتھ دوبارہ ملنے کے قابل بنایا اوربحیرہ احمرکی بندرگاہوں کے ذریعے پانچ گنا زیادہ ایندھن کی اجازت دی، جس سے انتہائی ضروری سامان کی فراہمی میں آسانی ہوئی۔ تاہم جنگ بندی کی میعاد 2 اکتوبر کو ختم ہو گئی اورحوثیوں نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے یمن کے لوگوں کے لیے ان فوائد کو بڑھانے کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے نائب نمائندے رچرڈ ملز نے کہا کہ یمن حوثیوں کےسخت رویّے کی وجہ سے امن کی راہ سے ہٹ رہا ہے،حوثی اقوامِ متحدہ کی ثالثی کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ حوثی ہی ہیں جنہیں مزید مصائب سے بچنے کے لیےاقدام کرنا چاہیے اورایک توسیع شدہ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت یمنی عوام کے لیے اور بھی زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہیے۔ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ یمنیوں کو ان فوائد سے محروم نہ رکھیں۔

سفیر ملز نے کہا کہ "بہر حال امریکہ کے لیے حوصلہ افزا بات ہوگی کہ فریقین بڑی حد تک جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کرتے رہیں اور یہ کہ اقوامِ متحدہ کی قیادت میں مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی بحران اور باہمی تفریق کے وقت اقوامِ متحدہ کی جنگ بندی کی حمایت میں ایک قابل ذکر بین الاقوامی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یمن کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ایک جامع، پائیدار امن معاہدہ یمنیوں کے لیے مزید مصائب، شہریوں کی ہلاکتوں میں دوبارہ اضافے اور گہرے انسانی بحران کو روکنے کا واحد آپشن ہے۔

سفیرملز نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حوثی یمنی عوام کی امن کی درخواستوں کو مسترد نہیں کریں گے اورجنگ بندی میں توسیع کے لیے بین الاقوامی اتفاق رائے کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ بلکہ ہم ان پر زور دیتے ہیں کہ وہ یمن میں ایک جامع، پائیدارامن کو یقینی بنانے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں۔

انہوں مزید کہا کہ "حوثیوں کے پاس ایک تاریخی موقع ہے، جوآنے والی نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس بات کو کوئی نہیں بھول سکے گا کہ جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے اپنے لوگوں کے لئے امن اور خوشحالی کا انتخاب کیا یا انہوں نے بے مقصد تباہی، مسلسل تشدد اورمعاشی محرومی کا ایک ایسا سلسلہ جاری رکھنے کا انتخاب کیا جس نے یمن کو پچھلے آٹھ سالوں سے جکڑ رکھا ہے؟"

سفیر ملز نے کہا، "ہم تمام بین الاقوامی برادری کے ساتھ، یمن کے ایک جامع، پائیدارامن تصفیے اور اس کے نتیجے میں بحالی کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔لیکن یہ یمنی فریقوں اورخاص طور پر حوثیوں پر منحصر ہے کہ وہ امن کے راستے کا انتخاب کریں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG