Accessibility links

Breaking News

خواتین اور سول سوسائٹی کے لیے اقوامِ متحدہ میں اہم کامیابی


فائل فوٹو

چودہ دسمبر کو اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل نے خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن سے ایران کو نکالنے کے حق میں ووٹ دیا۔

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ اس کارروائی کے اثرات "دنیا بھر میں دیکھنے میں آئیں گےاور انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی قیادت میں یہ کوشش "ایران میں سول سوسائٹی کی اٹھتی ہوئی آوازوں کا جواب ہے۔

یہ تاریخی اقدام ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر منظم جبر اور ان پرامن مظاہرین کے خلاف حکومت کی بربریت کے جواب میں کیا گیا جو 22 سالہ مہسا امینی کی ستمبر میں پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

سفیر تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ ایرانی حکومت نے شاید یہ سوچا تھا کہ مہسا کی موت وہاں ہلاک ہونے والوں میں صرف ایک اور نمبر کا اضافہ شمار ہو گی۔

سفیر تھامس گرین فیلڈ کے الفاظ میں "لیکن اس بار صورت حال مختلف تھی۔ دو بہادر خواتین رپورٹروں، نیلوفر حمیدی اور الٰہی محمدی نے اس کی کہانی سنا دی۔ اور جب ایران کے لوگوں نے یہ سنا تو کہا کہ بس اب بہت ہو گیا۔ وہاں کی تمام نسلوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

انہوں نے اپنے بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کیا۔ وہ ایک سادہ سے احتجاجی نعرے پر اکھٹے ہو گئے جو تھا عورت، زندگی، آزادی۔

ایرانی عوام کی آواز کو دبانے کی ایک ناکام کوشش میں ایرانی حکومت نے گزشتہ تین ماہ کے دوران ہزاروں پرامن مظاہرین کو حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ سینکڑوں کو ہلاک کردیا اورشرمناک انداز میں مقدمات چلائے جانے کے بعد، سزائے موت سمیت دیگرسخت سزائیں دیں۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ایک بیان میں کہا کہ خواتین کی حیثیت کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے کمیشن سے ایران کو نکالنے کا ووٹ "ایران کے بارے میں اور جواب دہی کے مطالبات کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اتفاق رائے کی ایک اور علامت ہے۔

دیگر اقدامات کے علاوہ، انہوں نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے گزشتہ ماہ کے "خوش آئند فیصلے" کی طرف اشارہ کیا جس میں ایرانی حکومت کے اپنے ہی لوگوں کے خلاف وحشیانہ اقدامات کی تحقیقات کے لیے حقائق معلوم کرنے والا مشن قائم کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے ایرانی حکام کی جانب سے خواتین مظاہرین کو آن لائن ہراساں کرنےاور بدسلوکی کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے ان تمام مظالم کے لیے جن کا ارتکاب ایرانی حکومت اور اس کے عہدیداروں نے کیا ، احتساب کے تمام طریقوں کو اختیار کرنے پر زور دیا۔

خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن سے ایران کے نکالے جانے پر ووٹنگ کے بعد، سفیر تھامس گرین فیلڈ نے اس دن کو ایک عظیم دن قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ہم مہسا کے لیے کھڑے ہوئے… ہم خواتین کے لیے کھڑے ہوئے، ہم زندگی کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم آزادی کے لیے کھڑے ہوئے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG