Accessibility links

Breaking News

ترکِ وطن سے متعلق اقوامِ متحدہ کے جائزہ فورم سے وزیرِ خارجہ بلنکن کا خطاب


فائل فوٹو


اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی مائیگریشن ریویو فورم میں وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اعلان کیا کہ یہ ایک ایسا زمانہ ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آج دنیا بھر میں تقریباً 95 ملین تارکینِ وطن نقل مکانی کر رہے ہیں جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے کسی بھی وقت سے زیادہ ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے زور دیا کہ جب لوگ حفاظت اور موقعے کی تلاش میں اپنے گھروں سے نکلتے ہیں، خطرناک سفر کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ممالک اور ادارے ترکِ وطن کو محفوظ اور زیادہ منظم بنانے کے لیے مل کر کام کریں۔

ہجرت کے انتظام اور کمزور لوگوں کی حفاظت کے لیے ایک مشترکہ طریقۂ کار وضع کرنا گلوبل کمپیکٹ فار مائیگریشن کا مقصد ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے زیراہتمام پہلا بین الحکومتی متفقہ معاہدہ ہے جس میں بین الاقوامی نقل مکانی کے تمام پہلوؤں کا جامع اور مکمل انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔ وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ امریکہ ہجرت کی ایسی پالیسیوں کا خواہاں ہے جو انسانی حقوق، انسانی وقار، شفافیت اور ریاستی خودمختاری پر مبنی ہوں اور ہم سول سوسائٹی، حکومتوں، نجی شعبے اوراقوامِ متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جسے ہم میں سے کوئی بھی تنہا حل نہیں کر سکتا۔

عالمی کمپیکٹ میں شامل کئی ممالک نے مغربی نصف کرہ میں جبر سے بھاگنے والے کئی لوگوں کو قانونی حیثیت اور سہولتیں فراہم کرکے اور ان کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے ذریعے رہنمائی کی ہے۔

بین الاقوامی تنظیمیں اور غیر سرکاری گروپ آب و ہوا سے متعلق آفات کے شکارلوگوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں اور مقامی حکام کو موسمیاتی شدّت برداشت کرنے اوران کے مطابق زندگی گزارنے کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ ان کمیونٹیز کی مدد کی جا سکے جنہیں اب موسمیاتی بحران کی وجہ سے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے۔

جو پیشرفت ہو رہی ہے اسے آگے بڑھانے کے لیے امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ جون میں، امریکہ کے سربراہی اجلاس میں ہم اپنے پورے نصف کرہ میں جہاں مسئلہ خاص طور پر شدید ہے بے قاعدہ ترکِ وطن کے لیے باہمی تعاون پر مبنی ردعمل تیار کرنا جاری رکھیں گے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ایک ساتھ مل کر ہم بے قاعدہ ہجرت کی بنیادی وجوہات پر کام کر رہے ہیں، بشمول معاشی مواقع کی کمی، عدم تحفظ، بدعنوانی اور جابرانہ طرزِ حکمرانی، آب و ہوا سے متعلق ہنگامی صورتِ حال وغیرہ، اور ان مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخر لوگ اپنا گھر چھوڑ کیوں رہے ہیں۔

امریکہ ترکِ وطن کے لیے قانونی راستوں کو بڑھانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے جس میں اس سال 50,000 سے زائد اضافی عارضی ورکرز ویزے مختص کرنا، خاندان کے دوبارہ یکجا ہونے کے پروگراموں کو بڑھانا اور دنیا بھر میں خطروں میں گھرے تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے لیے مالی امداد شامل ہے۔

امریکہ دنیا بھر میں محفوظ، منظم اور مہذب ترکِ وطن کے لیے کام کرتا رہے گا۔ ایک ایسی قوم کے طور پرجو تارکینِ وطن سے تشکیل پائی اور انہیں سے مالا مال ہے یہ مسئلہ خاص طور پر ہمارے دلوں کے قریب ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG