Accessibility links

Breaking News

نیٹو کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کا عزم


فائل فوٹو

شمالی بحراوقیانوس کی تنظیم یا نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے جس میں اب 30 ممالک شامل ہیں اور رضاکارانہ بنیاد پر یہ تقریباً ایک ارب لوگوں کا احاطہ کرتا ہے۔ وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں کہا کہ اس کے رکن ممالک جمہوریت، آزادی اور قواعد وضوابط کی بنیاد پر ایک بین الاقوامی نظام کی مشترکہ اقدار پر متحد ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ مختلف ممالک پرامن طور پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ نیٹو سے امریکہ کی وابستگی بدستور مضبوط ہے۔ ہمارا ایجنڈا بہت وسیع ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اتحاد اگلے 75 برسوں میں بھی اتنا ہی مؤثر رہے گا جتنا کہ یہ تقریباًً ابتدائی پون صدی میں رہا ہے۔

بلنکن کے بقول ہم نے اپنے اتحادیوں اور نیٹو سے ابتدا کرتے ہوئے اپنے تمام شراکت داروں کو قوت بخشنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ جب ہم ان تمام چیلنجز پر عملی نظر ڈالتے ہیں جن کا ہمیں ایک ملک کی حیثیت سے سامنا ہے اور جو ہمارے شہریوں پر حقیقی معنوں میں ممکنہ طور پر اثر انداز ہوسکتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی ملک تنہا مؤثر طورپر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ حتیٰ کہ امریکہ بھی اپنے تمام وسائل کے باوجود جو اس کے پاس موجود ہیں تنہا ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ ہماری دلچسپی بڑی گہری ہے چاہے اس کا تعلق بعض نئے چیلنجز مثلاً موسمیاتی تبدیلی سے ہو، سائبر کے شعبے سے ہو یا آمرانہ حکومتوں کے عروج اور ان چیلنجز سے جو ان سے درپیش ہو سکتے ہیں۔ ہم ان تمام سے مل جل کر نمٹنے اور اپنی اپنی اجتماعی سلامتی پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کے مقابلے کے لیے بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور نیٹو کا مقصد یہی ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ مشن اب یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آج کے چیلنجز سے مقابلے کے لیے نیٹو کو موجودہ حالات میں پوری طرح متحرک کریں اور 2030 کا ایجنڈا بھی بالکل یہی ہے۔

اُن کے بقول ہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ اور اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے شدت سے منتظر ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG