Accessibility links

Breaking News

بیلاروس کے شہریوں کو مسلسل مصائب کا سامنا


فائل فوٹو

بیلاروس میں جعلی صدارتی انتخاب کو سال بھر ہو گئے ہیں جسے بین الاقوامی برادری نہ تو آزادانہ خیال کرتی ہے اور نہ ہی منصفانہ۔ پورے ملک میں الیگزینڈر لوکا شینکو کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا جسے یورپ کا آخری آمر سمجھا جاتا ہے۔

احتجاج کے خلاف لوکا شینکو حکومت نے ظالمانہ طاقت کا استعمال کیا۔ جیسا کہ بیلا روس میں انسانی حقوق کے بارے میں 2020 کے لیے امریکی محکمۂ خارجہ کی رپورٹ میں توجہ دلائی گئی ہے، کم سے کم چار مظاہرین ہلاک ہو گئے اور ہزاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔

ان میں سے بعض کو مارا پیٹا گیا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور بجلی کے کرنٹ لگائے گئے۔ اس وقت بھی 600 سے زیادہ لوگ بدستور غیر منصفانہ طور پر حراست میں ہیں۔ جعلی الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے پرامن مظاہرین کو جیل میں ڈالنے، میڈیا کے غیر جانب دار اداروں کی بندش اور غیر سرکاری تنظمیوں اور سول سوسائٹی کو خاموش کرنے کے لیے بیلاروس کے حکام کی کارروائیوں کی مذمت کی۔

جیسا کہ وزیرِ خارجہ بلنکن نے توجہ مبذول کرائی کہ حالیہ مہینوں میں لوکا شینکو حکومت کی دہشت گرد کارروائیوں کا دائرہ بیلاروس کے باہر بھی پھیل گیا۔ مئی میں بیلاروس کے حکام نے بیلاروس کی فضائی حدود کے اوپر سے گزرنے والے ایک تجارتی طیارے کا رخ موڑ دیا جس کا مقصد بیلاروس کے ایک صحافی کو گرفتار کرنا تھا۔

ابھی حال ہی میں بیلاروس کے حکام نے اپنے ملک کی اولمپین کھلاڑی کریسٹیانا سیمانوسکایا کو جسے پولینڈ نے انسانی بنیاد پر ویزے کی پیش کش کردی، ان کی مرضی کے خلاف وطن واپس آنے پر مجبور کیا۔ ان کا قصور محض یہ تھا کہ انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کا اپنا حق استعمال کیا تھا اور سوشل میڈیا پر روس کی اولمپک کمیٹی پر تنقید کی تھی۔

انسانی حقوق کی جاری کھلی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کے بین الااقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں بیلاروس کی ناکامی پر نو اگست کو وزیرِ خارجہ بلنکن نے 44 افراد اور اداروں کے خلاف تعزیرات کا اعلان کیا تاکہ الیگزینڈر لوکا شینکو اور ان کی حکومت کو ملک کے اندر اور باہر بیلاروس کے لوگوں پر جاری اور پرتشدد جبر و استبداد کے لیے جواب دہ ٹھیرایا جا سکے۔ غیر ملکی اثاثوں پر نظر رکھنے والے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر نے جن افراد اور اداروں کو ہدف بنایا ہے، ان میں سرکاری کمپنیاں، سرکاری عہدیدار اور دوسرے شامل ہیں، جو حکومت کی حمایت کرتے ہیں، اس کے پرتشدد جبر و استبداد میں سہولت فراہم کرتے ہیں اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے اسی دن برطانیہ اور کینیڈا کی جانب سے لگائی جانے والی تعزیرات کا اور 24 جون کو یورپی یونین کی اعلان کردہ تعزیرات کا خیر مقدم کیا۔ امریکہ، لیتھوینیا اور پولینڈ کے درمیان جاری قریبی تعاون کو بھی سراہتا ہے جو بیلاروس کے لوگوں کی جمہوری اُمنگوں کی حمایت میں استقامت کے ساتھ بین الااقوامی عزم کا عکاس ہے۔

ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے تاکہ ان لوگوں کو جواب دہ ٹھیرا سکیں جو بیلاروس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کے ذمے دار ہیں۔ ہم بیلا روس کے لوگوں کے انسانی حقوق اور ان کی بنیادی آزادیوں کی حمایت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG