Accessibility links

Breaking News

ایران میں پھانسیاں دہشت پھیلانے کا ہتھکنڈہ


سیکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کو قتل کرنے کے ملزم سید محمد حسینی عدالت میں بیان دے رہے ہیں۔ حسینی کو بعد ازاں پھانسی دے دی گئی تھی۔ (فائل فوٹو)

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ایرانی حکام پرامن احتجاج کو دبانے کی کوششوں کے "اہم جزو" کے طور پر پھانسی کی سزا کا استعمال کر رہے ہیں۔

پرائس کی ان پھانسیوں کو دہشت کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی وضاحت اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے کہ 7 جنوری کو ایران نے دو اور نوجوانوں کو ان پر امن مظاہروں کے سلسلے میں پھانسی دے دی جو ستمبر میں مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد پورے ملک میں پھیل گئے تھے۔

نیڈ پرائس نے کہا، "ہمیں ایران کی جانب سے محمد مہدی کرامی اور محمد حسینی کو سزائیں اور پھانسی دینے پرسخت صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں احتجاج میں شریک مزید افراد کو سزائے موت دینے کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا۔ ان دونوں افراد کو ایسے مقدمات کے بعد موت کے گھاٹ اتارا گیا جنہیں محض جعلی اور شرم ناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ جعلی مقدمات انتہائی عجلت میں چلائے گئے۔ ان میں منصفانہ انداز میں مقدمہ چلانے کی ضمانتیں موجود نہ تھیں۔ ہم ان پھانسیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔"

انسانی حقوق کے معتبر گروپوں کا اندازہ ہے کہ ایران میں مظاہروں کے سلسلے میں ایک درجن سے زائد افراد کو موت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 500 سے زائد افراد ہلاک اور 18000 سے زائد گرفتار ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے جبری اعترافات کی بنیاد پر غیر منصفانہ مقدمات کے نتیجے میں کرامی اور حسینی کی دہشت انگیز پھانسیوں کی مذمت کی ہے۔

ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی رابرٹ میلے نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہم اور دنیا بھر کے دیگر لوگ ایران کی قیادت کو جواب دہ ٹھہراتے رہیں گے۔

امریکہ اور یورپی یونین نے دسمبر میں ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کے پرتشدد ردِ عمل میں مزید افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ تازہ ترین پھانسیوں کے بعد کینیڈا نے بھی اضافی پابندیوں کا اعلان کیا۔

ترجمان پرائس نے توجہ دلائی کہ پچھلے سال امریکہ نے کامیابی کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو آمادہ کیا کہ وہ ستمبر میں مظاہروں کے آغاز کے بعد سے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بالخصوص خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے حوالے سے تحقیقات کے لیے حقائق معلوم کرنے والا مشن قائم کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات دیکھنے کی ہے کہ دنیا کے ممتاز ادارے کے پاس، ہر اعتبار سے ایک ایسا کمیشن ہے جو مکمل طور پر اور خصوصی طور سے اس بربریت کی تحقیقات کے لیے تربیت یافتہ ہے جس کا ارتکاب ایرانی حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف کر رہی ہے۔

ترجمان پرائس نے کہا کہ امریکہ حقائق معلوم کرنے والے مشن کے سپرد یے جانے والے اس مقصد کو پورا کرنے میں اپنی مدد اسی طور جاری رکھے گا جس طرح ہم اقوامِ متحدہ اور اپنے شراکت داروں کو یہ جائزہ لینے کی تربیت دیتے ہیں کہ ایرانی عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG