Accessibility links

Breaking News

ہانگ کانگ میں جمہوریت پسند رہنماؤں کو سزائیں


امریکہ کے وزیرِ خارجہ انٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ سیاسی محرکات کی بنیاد پر لگائے جانے والےالزامات کے تحت سات جمہوریت نواز رہنماؤں کو ہانگ کانگ میں سزائیں دیے جانے کی مذمت کرتا ہے۔ ان کا نام نہاد جرم یہ تھا کہ انھوں نے 2019 میں ہانگ کانگ کے لوگوں کی بنیادی آزادیوں پر بیجنگ کی دست درازی کے خلاف پرامن مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

جن جمہوریت نواز رہنماؤں کو سزائیں دی گئی ہیں ان میں مارٹن لی، جیمی لائی، البرٹ ہو، مارگریٹ نگ، سیڈ ہو، لی چوک یان اور لیونگ کواک ہنگ شامل ہیں۔ پانچ کو آٹھ سے 18 مہینوں تک کی جیل کی سزائیں دی گئی ہیں جب کہ دوسروں کو جوسزائیں دی گئی ہیں ان پر فوری عمل نہیں ہوا۔ ان میں ہانگ کانگ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی چیئرمین مارٹن لی بھی شامل ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا ہے کہ یہ سزائیں جمہوریت نواز رہنماؤں کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں جو پرتشدد نوعیت کی نہیں تھیں۔

بعض سرگرم کارکن مثلاً جیمی لائی، کو جن کی عمر 73 برس ہے اور جو ہانگ کانگ میں ایک جمہوریت نواز اخبار کے بانی ہیں، اضافی الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں وہ الزامات بھی شامل ہیں جو 2020 میں ہانگ کانگ میں بیجنگ کی طرف سے نافذ کیے گئے قومی سلامتی کے وسیع قوانین کے تحت لگائے گئے ہیں۔ ان قوانین کے تحت بیجنگ کو اس بات کے وسیع اختیارات حاصل ہوگئے ہیں کہ بہت سے مبینہ سیاسی جرائم پر پکڑ دھکڑ کی جاسکتی ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کی سزاؤں کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ عوامی جمہوریہ چین اور ہانگ کانگ کے حکمران اس طرح ان حقوق اور بنیادی آزادی کو پامال کرسکتے ہیں، جن کی بنیادی قانون اور چین اور برطانیہ کے درمیان مشترکہ اعلان میں ضمانت دی گئی ہے۔ اور یہ محض اس بات کی کوشش ہے کہ ہر قسم کے اختلاف کو ختم کردیا جائے۔

چین اور برطانیہ کے درمیان مشترکہ اعلان ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو عمل درآمد کا پابند کرتا ہے اور جس کے تحت ہانگ کانگ کو بہت زیادہ خود مختاری کی ضمانت دی گئی ہے۔ ہانگ کانگ کے لوگ ان حقوق اور آزادیوں کے مستحق ہیں جن کی مشترکہ اعلان اور بنیادی قانون میں ضمانت دی گئی ہے۔

امریکہ ہانگ کانگ کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہے گا جب کہ وہ اپنی آزادیوں اور خودمختاری کے لیے بیجنگ کی چیرہ دستیوں کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں، اور وہ ان لوگوں کی رہائی کے لیے مطالبہ کرتا رہے گا جنھیں ان کی بنیادی آزادیوں کے اظہار پر حراست میں لیا گیا ہے یا پابندِ سلاسل کیا گیا ہے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

See comments

XS
SM
MD
LG