Accessibility links

Breaking News

سعودی عرب میں انسانی حقوق سے متعلق تحفظات


فائل فوٹو

سعودی عرب میں ایک امدادی کارکن عبدالرحمن السدحان کو دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق ایک عدالت نے 20 برس قید کی سزا سنائی ہے۔ ساتھ ہی اس پر 20 برس کے لیے سفر کی پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں 12 مارچ 2018 کو دارالحکومت ریاض میں ہلالِ احمر سوسائٹی کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ملازم تھے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو سدحان کی سزا پر تشویش ہے۔ اپیل کے ہر مرحلے میں ہم مسلسل اس معاملے پر نظر رکھیں گے۔ ہم نے تمام سطحوں پر سعودی عہدیداروں سے کہا ہے کہ اظہارِ رائے کی ازادی کبھی بھی سزا کا جواز نہیں بنتی۔

اس امدادی کارکن کی بہن أریج السدحان جو امریکی شہری ہیں، اپنے بھائی کی رہائی کی وکالت کرتی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ عبدالرحمن کو کسی وارنٹ یا الزامات کے بغیر فروری 2021 تک حراست میں رکھا گیا۔

بائیڈن۔ ہیرس انتظامیہ نے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کے بارے میں محکمۂ خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مقامی سرگرم کارکنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ سیکڑوں یا ہزاروں کی تعداد میں سیاسی قیدی موجود ہیں جن میں حراست میں لیے گئے وہ افراد بھی شامل ہیں جو مبینہ طور پر کسی الزام کے بغیر طویل عرصے سے پابندِ سلاسل ہیں۔

سن 2020 کی انسانی حقوق کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کم سے کم 192 افراد بدستور حراست میں ہیں۔ ان پر سرگرمی سے متحرک ہونے، سرکاری عہدیداروں یا اسلام یا مذہبی رہنماؤں پر نکتہ چینی اور قابلِ اعتراض مواد چھاپنے کے الزامات ہیں۔ ان میں سرگرم کارکنان رائف بداوی، محمد القتانی، نعیمہ عبداللہ المتراد، مہا الرفیدی، ایمان النفجان، ولید ابوالخیر اور نسیمہ السادیٰ شامل ہیں۔

سن 2021 میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ فروری میں سعودی خواتین کے حقوق کی علم بردار لجین الھذلول کو تقریبا تین سال قید کے بعد رہا کیا گیا تاہم ان پر سفر کی پابندی ہے۔

الھذلول سعودی عرب میں عورتوں کی ڈرائیونگ کو قانونی حیثیت دینے کی مہم کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہیں۔

انہیں سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی اٹھائے جانے کے ٹھیک چند ہفتے پہلے متعدد دوسرے سرگرم کارکنوں کے ساتھ مئی 2018 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ دو سرگرم کارکنوں بدر الابراہیم اور صلاح الحیدر کو جن کے پاس امریکی شہریت ہے، دہشت گردی سے متعلق الزامات پر مقدمات چلانے کی کارروائی تک مشروط طور پر رہا کیا گیا ہے۔

ایک تیسرے سرگرم سعودی کارکن ڈاکٹر ولید فتحی کو جو امریکی شہریت کے حامل ہیں، سزا میں تخفیف کے بعد رہا تو کیا گیا لیکن ان کے سفر اور اثاثوں پر پابندیاں برقرار ہیں۔

ترجمان پرائس نے کہا کہ امریکہ، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کے معاملے کو برابر اہمیت دیتا رہے گا اور ایسی قانونی اصلاحات کی حوصلہ افزائی کرے گا جن سے تمام افراد کے انسانی حقوق کا احترام ہوتا ہو۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG