Accessibility links

Breaking News

یمن کے لیے مزید امریکی امداد کا اعلان


فائل فوٹو

یمن جس انسانی بحران کا شکار ہے اسے وسیع معنوں میں دنیا میں بدترین خیال کیا جاتا ہے جب کہ لاکھوں بچوں سمیت دو کروڑ لوگ کسمپرسی کے عالم میں امداد کے طالب ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ انٹنی بلنکن نے عطیہ دینے والوں کی ایک کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکہ نے اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ وہ یمن کے بحران میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں امریکہ کی جانب سے انسانی امداد کے طور پر تقریباً 19 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کرنے پر مسرت ہے جس کے بعد 2021 کے مالیاتی سال میں ہماری امدادی رقم 35 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ چھ سال پہلے جب سے اس بحران نے جنم لیا ہے امریکہ نے مجموعی طور پر یمن کے عوام کے لیے 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ مہیا کیے ہیں۔

اس فنڈنگ سے امریکی شراکت داروں کو ضروری اعانت کی ترسیل میں مدد حاصل ہوتی ہے جس میں خوراک، تحفظ، تعلیم، پناہ گاہیں، صحت، پانی، گندے پانی کی نکاسی اور غذائیت کی شدید کمی سے بچاؤ اور ان کا علاج شامل ہے۔ اسے پانی کے نظام کی بحالی، ضروری سڑکوں کی تعمیر اور خاندانوں کے لیے آمدن کے حصول میں مدد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یمن میں انسانی بحران کو ختم کرنے کا بالآخر واحد طریقہ وہاں جنگ کا خاتمہ ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ امریکہ امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کر رہا ہے۔ ان کے بقول ہم نے اس بات کا تہیہ کر رکھا ہے کہ یمن کے لوگوں کی فلاح کو اپنی پالیسی میں اولیت دیں گے جب کہ انصار اللہ کے لیڈروں پر جنھیں حوثی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دباؤ جاری رکھیں گے۔ ہم حوثیوں پر زور دیتے ہیں کہ سرحد کے آر پار اپنے حملے اور فوجی کارروائیاں بند کردیں جن سے جنگ طول پکڑتی ہے۔ ہم اقوامِ متحدہ کی قیادت میں کی جانے والی کوشش اور عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کے ان اقدامات کی بھی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد جنگ بندی کرانا، انسانی رسائی کو بڑھانا اور امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانا ہے۔

یمن کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹیم لینڈر کنگ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کی حکومتوں نے تنازعے کے حل کا عہد کر رکھا ہے۔ اب یہ حوثیوں کا کام ہے کہ وہ بھی اسی طرح کی وابستگی کا مظاہرہ کریں۔ امریکہ حوثیوں پر زور دیتا ہے کہ وہ معارب پر جاری حملے بند کردیں، جہاں اندرون ملک بے گھر ہونے والے 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں اور قیامِ امن کی جانب قدم بڑھائیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ہم امن مذاکرات کی تیزی کے ساتھ بحالی کے بارے میں پرامید ہیں جن کا مقصد اس تنازعے کو ختم کرنا ہے۔ اب وقت ہے کہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اور ایک زیادہ مستحکم اور خوش حال یمن کا قیام عمل میں لایا جائے جس کے شہری اپنی زندگیوں کی ازسرِنو تعمیر کرنے کے قابل ہوسکیں اور آخر کار ایک بہتر مستقبل کی خواہش کرسکیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG