Accessibility links

Breaking News

حلبجہ پر کیمیائی حملے کی یاد میں


فائل فوٹو

اس ماہ ہم عراقی کرد شہرحلبجہ پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے 33 سال مکمل ہونے کی یاد منا رہے ہیں۔ یہ حملہ سابق صدر صدام حسین کی الانفال مہم کا حصہ تھا جس کے نتیجے میں شمالی عراق کی آبادی میں بہت سے لوگ ہلاک اور بے گھر ہوگئے تھے۔

اس کا آغاز 1986 میں ہوا تھا اور 1989 میں اس کا اختتام ہوا جس کے دوران کرد شہر اور دیہات تباہ کردیے گئے۔ ہزاروں کرد لاپتا ہوگئے یا ہلاک کردیے گئے اور صدام حکومت نے لاکھوں کردوں کو ان کے گھروں سے زبردستی بے دخل کردیا۔ اس مہم میں دوسری چھوٹی نسلی اورمذہبی برادریوں کو بھی دہشت زدہ کیا گیا جن میں اسیرین، شباک، عراقی ترکمان، یزیدی اور مندین شامل تھے۔

وسط مارچ 1988 میں عراق کی سرکاری افواج نے دو روز تک حلبجہ شہر پر راکٹوں کی بارش کی اور 'نیپام' بم گرائے۔ اس کے نتیجے میں ان عمارتوں کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں جو اس وقت تک سالم تھیں اور شہر کے50 ہزار مکین تہہ خانوں اور زیرِ زمین پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہوگئے۔

حملے کے دوسرے دن 16 مارچ کی شام گولہ باری رک گئی۔ عراقی ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں نے شہر پرکیمیائی ہتھیاروں کی بوچھاڑ کردی جن میں زہریلی گیس اور سیرین، تابن اور وی ایکس جیسی اعصابی گیس شامل تھی۔

یہ زہریلے کیمیکل جو ہوا سے بھاری تھے زمین تک پہنچ گئے اور ٹوٹے ہوئے دروازوں اور کھڑکیوں سے گھروں کے اندر داخل ہو کر اس جگہ پہنچ گئے جہاں لوگ خوف کے عالم میں جمع اور حملہ رکنے کے منتظرتھے۔ جدید تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی حکومت نے اپنے ہی لوگوں کو کیمیائی ہتھیاروں سے نشانہ بنایا تھا۔

حلبجہ پر زہریلی گیس گرائے جانے کے براِہ راست نتیجے میں تقریباً پانچ ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ تقریباً 10 ہزار افراد بینائی کھو بیٹھے، معذور ہوگئے یا ان کے اعضا کو نقصان پہنچا۔ اس کے بعد کے عشروں کے دوران مزید ہزاروں لوگ صحت کی ہول ناک پیچیدگیوں اور بیماریوں سے ہلاک ہو ئے۔

ان دو افراد کو جو اس جرم کے سب سے بڑے ذمے دار تھے بلآخر اپنی کارستانیوں کی قیمت چکانی پڑی۔ صدام حسین کو جنہوں نے الانفال مہم کے تحت ان ہول ناک حملوں کے احکامات دیے تھے، انسانیت کے خلاف جرائم کا قصور وار پایا گیا اور انہیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔

ان کے رشتے کے ایک بھائی علی حسن عبدالمجید کو جوکیمیکل علی کے نام سے جانے جاتے تھے اور جنہوں نے الانفال مہم کی قیادت کی تھی اور حلبجہ پر حملے کے ذمے دار تھے، عراقی کردوں کے خلاف نسل کشی کے جرم کا مرتکب پایا گیا اور انہیں بھی سزائے موت دی گئی۔

الانفال مہم کو شہ دینے اور ہزاروں بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے واالوں کا انجام دوسروں کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر نہ چلیں۔

شام میں سیرین گیس کے استعمال سے یہ بات واضح ہے کہ دنیا کو مظالم اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے ہمہ وقت لازمی طور پر چوکنا رہنا چاہیے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG