Accessibility links

Breaking News

ایران اور اس کے پراکسی گروپوں کو تشدد میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے


فائل فوٹو
فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایران کی خفیہ کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے کئی سینئر کمانڈر اور افسران شام کے شہر دمشق میں ایک فوجی حملے کے دوران مارے گئے۔

یہ حملہ یکم اپریل کو کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے اس بم حملےکے لیے امریکہ کو ذمہ دارٹھہرانے کے ایرانی الزامات کو ’’بے معنی‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مجھے یہ واضح کرنے دیں کہ ’’دمشق میں ہونے والے حملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا۔

اقوامِ متحدہ میں خصوصی سیاسی امور کے متبادل امریکی نمائندے سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا کہ ’’جب ہم اس بمباری کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرتے ہیں تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ ایران اور اس کے پراکسی اور شراکت دار گروپوں کو خطے میں کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی ضرورت ہے۔

سفیر رابرٹ ووڈ کہتے ہیں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکہ نے ایران کوبارہا خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور دیگر عوامل کے خلاف اپنی دیرینہ پراکسی جنگ کو بڑھانے کے لیے اس صورتِ حال کا فائدہ نہ اٹھائے۔

ایران نے اس انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ دہشت گرد اور دیگر مسلح گروہ شام کی سرزمین کو اسرائیلی اور امریکی تنصیبات اور اہلکاروں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کچھ کو شامی حکومت اور ایران کی حمایت حاصل ہے۔

سفیر ووڈ نے توجہ دلائی کہ ایرانی حمایت یافتہ اور مسلح حزب اللہ لبنان سے اسرائیل پر باقاعدگی سے حملے کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بحیرہ احمر میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور تجارتی جہازوں پر بار بار حملے کیے ہیں۔

ایرانی حمایت یافتہ گروہوں نے عراق میں امریکی سفارتی تنصیبات کو ہدف بنایا ہے اور داعش کے خلاف نبرد آزما امریکی فوجی اہلکاروں پر حملے کیے ہیں۔ ان تمام دہشت گرد ،پراکسی اور شراکت دار گروپوں کی کارروائیوں میں ایران واضح طور پر شامل ہے۔

سفیر ووڈ نے کہا کہ’’ہمسایہ ممالک پر حملوں کے لیے شامی سرزمین کے استعمال کے حوالے سے بھی ہمارے دیرینہ تحفظات ہیں۔

سفیر رابرٹ ووڈ کہتے ہیں کہ ’’مثال کے طور پر 31 مارچ کو ایک اسرائیلی لڑاکا طیارے نے مبینہ طور پر شام کی سمت سے اسرائیل کی طرف جانے والے ایک مشکوک فضائی راکٹ کو روکا اور سات اکتوبر کے بعد سے متعدد مواقع پرہم نے شام کی سرزمین سے گولان کی پہاڑیوں میں اور اس کے ارد گرد اسرائیلی پوزیشنوں کی طرف راکٹ، مسلح ڈرون اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال کو دیکھا ہے۔

امریکہ نے شام اور عراق میں داعش کے خلاف کارروائیاں کرنے والے امریکی فوجی اہلکاروں پر حملوں کا جواب دینے کے لیے اپنے دفاع میں اقدام کیے ہیں۔

ایران اور شام سمیت تمام ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشیدگی کے راستے سے گریز کریں، دہشت گرد گروپوں کو مسلح کرنے اور ا ن کی مشاورت سے باز رہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی پراکسیوں کی کارروائیوں کو روکیں۔

یہ اداریہ امریکی حکومت کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG