Accessibility links

Breaking News

ایران سے متعلق مذاکرات میں تھوڑی پیش رفت لیکن اس کی اہمیت اپنی جگہ برقرار


فائل فوٹو


امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ 2018 میں ایران کے نیوکلیئر سمجھوتے سے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علیحدہ ہوجانے سے ایک چیلنج کی صورتِ حال نے جنم لیا۔

اس معاہدے کو مشترکہ جامع پلان آف ایکشن یا (جے سی ای او اے) کہا جاتا ہے۔ ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو محدود رکھنے کے بجائے اپنے منصوبے کو بڑھتے ہوئے خطرناک انداز میں آگے بڑھایا ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ ہمیں اس سے نمٹنا ہے اور ہم ایسا کررہے ہیں۔ وزیرِ خارجہ بلنکن نے زور دیا کہ امریکہ نے بدستور اس بات کا تہیہ کررکھا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔

اُن کے بقول ہم اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم آنے والے ہفتوں میں مہینوں میں نہیں، اگر نیوکلیئر معاہدے جے سی پی او اے پر واپس آتے ہیں تو یہ بات ہماری سلامتی اور علاقے میں ہمارے اتحادیوں اور شراکت داروں کے لیے بہترین چیز ہوگی۔


حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران نے اتفاق کیا ہے کہ ویانا میں مذاکرات کے دوان کچھ پیش رفت ہوئی ہے جہاں امریکہ اور ایران کی جے سی پی او اے میں باہمی واپسی کے معاملے پر ایران اور پی فائیو پلس ون کے ملکوں یعنی برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور بالواستہ طور پر امریکہ کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے تاہم یہ انتباہ کیا کہ مذاکرات کو مکمل کرنے کے لیے وقت بہت ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں ایران یورینیم کو ایٹمی ہتھیاروں کے معیار کی سطح پر لگ بھگ افزودہ کرتا رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ایران اس نکتے سے قریب سے قریب تر آ رہا ہے جب وہ مختصر نوٹس پر ایٹمی ہتھیار کے لیے کافی مواد تیار کرسکتا ہے اور ساتھ ہی وہ ایسی پیش رفت کررہا ہے جسے تبدیل کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے کہ وہ معلومات حاصل کررہے ہیں اور معاہدے کی پابندیوں سے الگ ہونے کے نتیجے میں وہ نئے اقدامات کررہے ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں جے سی پی او اے میں باہمی واپسی کے بارے میں اگر کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا تو ا س صورت میں امریکہ ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور
ا س سے پرے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ دوسرے اقدامات اور متبادلات پر کام کررہا ہے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم کسی بھی راستے کے لیے تیار ہیں تاہم یہ صاف بات ہے کہ اگر ہم معاہدے پر عمل درآمد کےلیے واپس چلے جائیں تو یہ بات ہماری ، ہمارے اتحادیوں اور شراکت داورں کی سلامتی کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہوگی۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG