Accessibility links

Breaking News

جنوبی بحیرۂ چین سے متعلق چینی دعوؤں کے بارے میں امریکہ کا نیا مطالعاتی جائزہ


US Military F35 Crash


ایک عشرے کے بیشتر حصے میں عوامی جمہوریہ چین نے جنوبی بحیرہ چین کے زیادہ تر حصے پر اپنا دعویٰ کیا ہے جن کی بنیاد مبہم تاریخی دعوؤں اور ایک نقشے پر ہے جس پر نو حصوں کو دکھایا گیا ہے جو سمندر کے بیشتر 35 لاکھ مربع کلومیٹر کا احاطہ کرتے ہیں۔

ایسا جولائی 2016 میں ایک ثالث ٹریبونل کے فیصلے کے باوجود کیا گیا ہے جس نے جہاز رانی سے متعلق چین کے بہت سے دعوؤں کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ بین الااقوامی قانون میں ان کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

متنازعہ علاقے میں متعدد غیر آباد جزائر، کم گہرے پانی والے خطے اور زیرِ آب علاقے شامل ہیں اور ساتھ ہی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے ذخائر اور مچھلیوں کی نشو ونما والے سمندری حصے بھی واقع ہیں۔ جہاز رانی کے لیے دنیا کی مصروف ترین راہداریاں موجود ہیں۔

وسط جنوری میں امریکی محکمۂ خارجہ نے جنوبی بحیرہ چین میں جہاز رانی سے متعلق عوامی جمہوریہ چین کے دعوؤں کے بارے میں ایک جائزہ جاری کیا۔ یہ جائزہ 150 ویں رپورٹ ہے جو سمندروں میں قانونی اور تیکنیکی حدود کے بارے میں ہے اور جس میں سمندری علاقوں میں جہاز رانی کے دعوؤں اور سرحدوں کا تجزیہ کیا گیا ہے اور بین الااقوامی قانون کی روشنی میں ان کی ہم آہنگی کو پرکھا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں سمندروں کے ان خدو خال پر عوامی جموریہ چین کے اقتدارِ اعلی کے دعوؤں کی تلخیص بیان کی گئی ہے جو مدو جزر کے دوران ڈوب جاتے ہیں اور جزائر کے زمرے میں نہیں آتے۔

وہ اس حق کا دعویٰ کرتا ہے کہ بڑے خطوں کے گرد سیدھی لائن کھینچ کر بڑے پیمانے پر بکھرے ہوئے حصوں کو ملایا جا سکتا ہے اور ان خطوط کے اندر واقع حصوں کو سمندر کا علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

عوامی جموریہ چین سمندری پانیوں، سمندری حدود اور خصوصی اقتصادی زون کے دعوؤں کو جزائر کے ان گروپوں سے الگ کرکے دیکھتا ہے۔ آخری بات یہ کہ پی آر سی جنوبی بحیرہ چین میں تاریخی حقوق کا دعویٰ کرتا ہے جن کی بنیاد دوسری عالمی جنگ کے بعد سمندری دائرے کے گرد نو یکطرفہ آبی ٹکروں کی سرحد پر رکھی گئی ہے۔

اس مطالبے میں بین الااقوامی قانون سے ہم اہنگی رکھنے والے پی ار سی کے جہاز رانی کے دعوں کا جائزہ لینے کی خاطر اس کے سرکاری بیانات اور ان کے رابطوں پرانحصار کیا گیا ہے۔ آخر میں کہا گیا ہے کہ اول بات تو یہ بحری خطوں پر اقتدار اعلی سے متعلق پی ار سی کے دعوے ، جو ایک جزیرے کے حوالے سے بین الااقوامی تاریخ کے زمرے میں نہیں اتے ، انھیں جائز تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری بات یہ کہ سیدھی سپاٹ لکیریں جن میں جنوبی بحیرہ چین کے جزائر کو منسلک کیا گیا ہے ، وہ بھی بین الااقوامی قانون سے ہم اہنگ نہیں ہیں ، اسی طرح جزائر کے ان گروپوں سے جہاز رانی کے زون کو علیحدہ کرنے سے متعلق دعوے اسی زمرے میں اتے ہیں۔

آخری بات یہ کہ جنوبی بحیرہ چین میں تاریخی حقوق سے متعلق پی آر سی کے دعوے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے جن کا تاریخی حقوق کے حوالے سے یا جغرافیائی حدود کے طور پر دعویٰ کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی ان کے بارے میں اس کے پاس ٹھوس دلیل موجود ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ قانون کی بنیاد پر کسی نظام کے دفاع کا مقصد کسی ملک کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اس کا مقصد تمام ملکوں کے اس حق کو تحفظ مہیا کرنا ہے کہ وہ خود کسی دباؤ یا دھمکیوں کے بغیر اپنے راستے کا انتخاب کرسکیں۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG