Accessibility links

Breaking News

ہند و بحرالکاہل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ جاپان کا ورچوئل اجلاس


فائل فوٹو

امریکہ اور جاپان نے ایک آزاد ہندو بحرالکاہل کے علاقے سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔

وزیرِخارجہ اینٹنی بلنکن اور وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے حال ہی میں اپنے جاپانی ہم منصبوں سے امریکہ اور جاپان کی سیکیورٹی مشاورتی کمیٹی کی ورچوئل میٹنگ میں بات چیت کی۔

وزرا نےایک آزاد اور کھلے ہند وبحرالکاہل کے علاقے سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا اور اس بات کی نشان دہی کی کہ امریکہ اورجاپان کا اتحاد علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اہم کردار کا حامل ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور جاپان کا اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور ہمیں آج جو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نمٹنے کے لیے یہ اتحاد ضروری ہے۔

چین اور روس زمین ، سمندر خلا اور سائبر اسپیس میں بین الااقوامی اصولوں کی مستقل خلاف ورزی کررہے ہیں۔ بیجنگ کی اشتعال انگیز کارروائیوں سے آبنائے تائیوان کے آر پار اور مشرقی اور جنوبی چین کے سمندروں میں برابرکشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

یوکرین کی سرحدوں پرماسکو کا فوجی اجتماع اور اس کی بڑھتی ہوئی کڑی لفاظی سے نہ صرف یوکرین کے اقتداراعلی اوراس کی علاقائی یکجہتی کو خطرہ درپیش ہے بلکہ یورپ میں امن اور استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اور بیجنگ اور ماسکو اپنے فوجی تعاون کو گہرا کررہے ہیں۔

اسی دوران عوامی جمہوریہ کوریا کی غیر قانونی ایٹمی اور میزائل پروگراموں سے مستقل خطرہ درپیش ہے اور ہم نے تازہ ترین تجربوں کے بعد اس کا پھر مشاہدہ کیا ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ان ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی خاطرہمارے اتحاد کے لیے نہ صرف یہ لازم ہے کہ ہم دستیاب وسیلوں کو مضبوط کریں بلکہ یہ کہ نئے وسیلے بھی پیدا کریں۔

جاپان نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اور مضبوط بنائے گا تاکہ اپنے قومی دفاع کو مستحکم بنائے اور علاقائی امن اور استحکام میں مدد دے سکے۔ امریکہ نے باہمی تعاون اور سلامتی سے متعلق امریکہ اور جاپان کے معاہدے کے تحت، جاپان کے دفاع کے لیے اپنے غیرمتزلزل عہد کا اظہارکیا جس میں جوہری صلاحیت سمیت اپنی تمام صلاحیتوں کا استعمال کیا جائے گا۔

امریکہ نے بدستور اس بات کا عہد کر رکھا ہے کہ کسی بھی ایسی یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کی جائے گی جس کے تحت سن کاکو کے جزائر میں جاپان کے عمل دخل کو نقصان پہنچانے یا اس کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزرا نے عوامی جمہوریہ چین میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور کے علاقے اور ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کے مثائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے عہد کیا کہ ان تمام ملکوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا جو آزادی کے احترام ، جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی اورآزادانہ اورمنصفانہ اقتصادی نظام سے مشترکہ وابستگی رکھتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ہم دوسرے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اورچارملکوں کی شراکت کو مضبوط بنا رہے ہیں جن میں بھارت اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ امریکہ، جاپان اورجنوبی کوریا کے سہ طرفہ تعلقات کواورگہرا کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ان وجوہات اوربہت سی دوسری وجوہ کی بنا پر ہمارا اتحاد ایک آزاد اور کھلے ہوئے ہندوبحرالکاہل کے لیے مشترکہ سوچ کو حاصل کرنے کی خاطراب سے زیادہ کبھی اتنی اہمیت کا حامل نہیں رہا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG