Accessibility links

Breaking News

روس کی نورڈ اسٹریم ٹو پائپ لائن پابندیوں کی زد میں


فائل فوٹو


امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ 2014 میں روس نے جزیرہ نما کرائمیا پر حملہ کیا اور اس کے ساتھ ہی اس نے مشرقی یوکرین میں بغاوت کو بھڑکایا، روس اس کے بعد یوکرین کو غیر مستحکم کرنے اور اس کے جمہوری اداروں کی متواتر بیخ کنی کی کوششوں میں مسلسل اضافہ کرتا آ رہا ہے۔

بلنکن نے کہا کہ روس نے یوکرین کی سیاست اور انتخابات میں مداخلت کی، یوکرین کے لیڈروں اور عوام کو ڈرانے دھمکانے کی خاطر اس کے توانائی کے شعبوں اور تجارت کو بلاک کردیا۔ اس نے بد اعتمادی کے بیج بونے کے لیے پروپیگنڈا اور گمراہ کن خبروں کو استعمال کیا، اس نے ملک کے بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملے کیے۔

پچھلے مارچ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر بلا اشتعال بڑے پیمانے پر اپنی فوجوں اور عسکری ساز و سامان کو جمع کرنا شروع کر دیا تھا اور اس کے نتیجے میں روس نے اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوکرین کے دو علاقوں کو یک طرفہ طور پر خودمختار ریاستوں کے طور پر تسلیم کر لیا۔ اس اعلان کے فوراً بعد روس نے یوکرین پر فوجی حملہ کر دیا۔

یوکرین کے خلاف جارحیت میں جیسے جیسے اضافہ ہوتا گیا، روس کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پابندیاں بھی بڑھتی گئیں۔

روس کی توانائی کا شعبہ، اس کی سب سے اہم صنعت ہے اور اس کی نصف سے زیادہ برآمدات کا تعلق اسی صنعت سے ہے۔ تقریباً ستّر فی صد قدرتی گیس متعدد پائپ لائنز کے ذریعے یورپ برآمد کی جاتی ہے۔

کریملن نے جب یوکرین کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے دو علاقوں کو الگ آزاد ریاستوں کے طور تسلیم کرلیا، تو اس کے فوراً بعد 23 فروری کو جرمنی نے اعلان کیا کہ وہ یورپ آنے والی نئی گیس پائپ لائن نورڈ اسٹریم 2 کی سرٹیفیکیشن کو روک رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ امریکہ جرمنی کے اس فیصلے کا معترف ہے کہ اس نے نورڈ اسٹریم 2 کی سرٹیفیکیشن کو روکنے کا جو انتظامی قدم اٹھایا ہے اس کے بعد یہ پائپ لائن چالو نہیں ہو سکے گی۔

جرمنی اور یورپی یونین سے مشاورت کے بعد امریکہ نے بھی نورڈ اسٹریم 2 پر پابندی عائد کر دی۔ اس کے ساتھ اس کے چیف ایگزیکٹو اور کئی کارپوریٹ حکام کے خلاف بھی پابندیاں عائد کردیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے جو امریکہ یا امریکہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہیں، ان کو منجمد کر دیا گیا اور امریکیوں کو ان کے ساتھ لین دین سے منع کر دیا گیا۔

وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ امریکہ یوکرین کی خود مختاری اور اس کی علاقائی سالمیت کی حمایت ثابت قدمی سے کرتا رہے گا۔ ہمارے آج کے اقدامات ہمارے اسی عزم کے عین مطابق ہیں، اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر روس پر مربوط طور سے سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ یوکرین کے خلاف روس کے غیر قانونی اور بلا اشتعال اقدامات کے نتیجے میں اس کو بھاری قیمت چکانی ہوگی اور سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

XS
SM
MD
LG