Accessibility links

Breaking News

الشباب کے دو رہنماؤں کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل


صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں واقع ایک ہوٹل کی عمارت جو الشباب کے بم حملے کا نشانہ بنی۔ (فائل فوٹو)

امریکہ دہشت گرد گروپ القاعدہ اور اس سے منسلک ہلاکت خیز گروپوں کو برابر نشانہ بنا رہا ہے جن میں الشباب بھی شامل ہے۔ حال ہی میں محکمۂ خارجہ نے الشباب کے سینئر رہنماؤں عبداللہی عثمان محمد اور معالم ایمن کو خاص عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

عبداللہی عثمان محمد، جسے انجینئر اسماعیل بھی کہا جاتا ہے، الشباب میں دھماکہ خیز مواد کا ایک سینئر ماہر ہے جو اس دہشت گرد گروپ میں دھماکہ خیز مواد کے آپریشن اور اس کی تیاری کے عمومی نظام کا ذمے دار ہے۔ وہ الشباب کے نام نہاد امیر کا ایک خصوصی مشیر اور الشباب کے میڈیا ونگ الکتائب کا سربراہ بھی ہے۔

معالم ایمن جیشِ ایمن کا سربراہ ہے جو کینیا اور صومالیہ میں دہشت گرد حملوں کی کارروائیاں کرنے والے الشباب کا ایک یونٹ ہے۔ ایمن جنوری 2020 میں مانڈا بے، کینیا میں سمبا نامی کیمپ پر حملے کی تیاری کا بھی ذمے دار تھا جس میں امریکی فوج کا ایک رکن اور دو امریکی ٹھیکیدار ہلاک ہوگئے تھے۔

الشباب کو مارچ 2008 میں ایک دہشت گرد تنظیم کا درجہ دیا گیا تھا اور وہ بدستور صومالیہ اور کینیا کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے الشباب کی جانب سے غیر قانونی مالی معاونت کے ہتھکنڈوں کو منتشر کرنے، شہریوں کے خلاف مزید حملوں کی اس کی صلاحیت کو محدود کرنے اور دہشت گردی کے لیے مالی امداد کو روکنے میں صومالیہ کی وفاقی حکومت کی اعانت کا تہیہ کر رکھا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس دہشت گرد گروپ کی صلاحیت اور آپریشن کو ناکارہ بنایا جاسکے اور مشرقی افریقہ میں اس کے کنٹرول اور اثر و نفوذ کا قلع قمع کیا جاسکے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں امریکیوں کو عبداللہی عثمان محمد اور معالم ایمن کے ساتھ کسی قسم کے لین دین کرنے کی عمومی ممانعت ہوگی۔ امریکہ کی حدود میں ان کی املاک اور املاک میں ان کے مفادات پر بندش ہوگی۔ اس کے علاوہ الشباب کو مادی اعانت یا وسائل کی جان بوجھ کر فراہمی یا اس کی کوشش یا اس کی سازش جرم تصور کی جائے گی۔

دہشت گردی کا قلع قمع کرنے سے متعلق رابطہ کار نیتھن سیلز نے کہا ہے کہ یہ تعزیرات سمندر پار ملکوں میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول ہم اس جنگ میں اپنے تمام وسیلوں کو بروئے کار لا رہے ہیں اور اس کے لیے نہ صرف تعزیرات بلکہ معلومات کے تبادلے کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی جوابی پیغام رسانی، سفر پر پابندیوں اور شراکت داری کی صلاحیت بھی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ کمزور اہداف کی حفاظت کی جاسکے۔

رابطہ کار سیلز نے مزید کہا کہ امریکہ کسی بھی ایسے غیر ملکی دہشت گرد گروپ کو نشانہ بنانے کے لیے مستعد ہے جو ہمارے شہریوں، بیرونِ ملک ہمارے مفادات یا ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ ایسےافراد کی نشان دہی سے ہمارا مقصد الشباب جیسے دہشت گرد گروپ سے لاحق خطروں کا تدارک کرنا ہے اور ان اقدامات سے یہی کچھ حاصل ہوگا۔

حکومتِ امریکہ کے نکتۂ نظر کا ترجمان اداریہ جو وائس آف امریکہ سے نشر کیا گیا**

See comments

XS
SM
MD
LG